🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. باب مَا جَاءَ فِي انْشِقَاقِ الْقَمَرِ
باب: چاند کے شق (دو ٹکڑے) ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2182
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " انْفَلَقَ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْهَدُوا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَسٍ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند (دو ٹکڑوں میں) ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ گواہ رہو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن مسعود، انس اور جبیر بن مطعم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/صفات المنافقین 8 (2801) (تحفة الأشراف: 7390) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چاند کا دو ٹکڑوں میں بٹ جانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا، اس معجزہ کا ظہور اہل مکہ کے مطالبے پر ہوا تھا صحیحین میں ہے کہ چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے، یہاں تک کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو اس کے درمیان دیکھا، اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا اس سے نیچے تھا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح معجزات میں سے ہے، ایسی متواتر احادیث سے اس کا ثبوت ہے جو صحیح سندوں سے ثابت ہیں، جمہور علماء اس معجزہ کے قائل ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں