سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب إِذَا رَأَى فِي الْمَنَامِ مَا يَكْرَهُ مَا يَصْنَعُ
باب: خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھنے پر کیا کرنا چاہئے؟
حدیث نمبر: 2277
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرٍ، وَأَنَسٍ، قَالَ: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں، اور برے خواب شیطان کی طرف سے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو تین بار اپنے بائیں طرف تھوکے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، ایسا کرنے پر وہ اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، ابوسعید، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2277]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، ابوسعید، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2277]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 11 (3292)، والتعبیر 4 (6986)، صحیح مسلم/الرؤیا 1 (2261)، سنن ابی داود/ الأدب 96 (5021)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا 3 (3909) (تحفة الأشراف: 12135)، وط/الرؤیا 1 (4)، وسنن الدارمی/الرؤیا 5 (2187) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح