سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب مِنْهُ
باب: دولت کی ہوس اور جاہ طلبی دین کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔
حدیث نمبر: 2376
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَيُرْوَى فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَصِحُّ إِسْنَادُهُ.
کعب بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بھوکے بھیڑیئے جنہیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے اتنا نقصان نہیں پہنچائیں گے جتنا نقصان آدمی کے مال و جاہ کی حرص اس کے دین کو پہنچاتی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں لیکن اس کی سند صحیح نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2376]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں لیکن اس کی سند صحیح نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11136)، وانظر: مسند احمد (3/456، 460)، وسنن الدارمی/الرقاق 21 (2772) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال و جاہ کی محبت اور حرص جس کے اندر آ گئی وہ ہلاکتوں سے اپنا دامن نہیں بچا سکتا، بدقسمتی سے آج امت اسی فتنہ سے دو چار ہے اور اس کی تباہی کا یہ عالم ہے کہ جس انتشار اور شدید اختلافات کا یہ امت اور اس کی دینی جماعتیں شکار ہیں ان کے اسباب میں بھی مال وجاہ کی محبت سر فہرست ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الروض النضير (5 - 7)