صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ ذِكْرِ الْقَيْنِ وَالْحَدَّادِ:
باب: کاریگروں اور لوہاروں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2091
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ:" كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ، أَتَقَاضَاهُ؟ قَالَ: لَا، أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: لَا أَكْفُرُ حَتَّى يُمِيتَكَ اللَّهُ، ثُمَّ تُبْعَثَ، قَالَ: دَعْنِي حَتَّى أَمُوتَ وَأُبْعَثَ، فَسَأُوتَى مَالًا وَوَلَدًا فَأَقْضِيكَ، فَنَزَلَتْ: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا {77} أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا {78} سورة مريم آية 77-78".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے کہ جاہلیت کے زمانہ میں میں لوہار کا کام کیا کرتا تھا۔ عاص بن وائل (کافر) پر میرا کچھ قرض تھا میں ایک دن اس پر تقاضا کرنے گیا۔ اس نے کہا کہ جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرے گا میں تیرا قرض نہیں دوں گا۔ میں نے جواب دیا کہ میں آپ کا انکار اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک اللہ تعالیٰ تیری جان نہ لے لے، پھر تو دوبارہ اٹھایا جائے، اس نے کہا کہ پھر مجھے بھی مہلت دے کہ میں مر جاؤں، پھر دوبارہ اٹھایا جاؤں اور مجھے مال اور اولاد ملے اس وقت میں بھی تمہارا قرض ادا کر دوں گا۔ اس پر آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا * أطلع الغيب أم اتخذ عند الرحمن عهدا» ”کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کو نہ مانا اور کہا (آخرت میں) مجھے مال اور دولت دی جائے گی، کیا اسے غیب کی خبر ہے؟ یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کوئی اقرار لے لیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2091]
حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں زمانہ جاہلیت میں لوہار تھا اور عاص بن وائل کے ذمے میرا کچھ قرض تھا۔ میں اس کے پاس اپنے قرض کا تقاضا کرنے آیا تو اس نے کہا: جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے انکار نہیں کرے گا اس وقت تک میں تیرا قرض نہیں دوں گا۔ میں نے کہا: اگر اللہ تجھے موت سے دوچار کر دے اور مرنے کے بعد پھر زندہ کر دے تو بھی میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے انکار نہیں کروں گا۔ اس نے کہا: پھر تو مجھے چھوڑ دے تاکہ میں مروں، پھر زندہ کیا جاؤں کیونکہ پھر مجھے وہاں مال بھی ملے گا اور اولاد بھی، پھر تمہارا قرض ادا کروں گا۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا ﴿٧٧﴾ أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا﴾ [سورة مريم: 77-78] ”(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو ہماری آیات کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے ضرور مال اور اولاد ملے گی۔ کیا اسے غیب کی اطلاع ہو گئی ہے؟ یا اللہ سے اس نے کوئی عہد لے رکھا ہے؟“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2091]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة