🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. باب مَا جَاءَ فِي خَفْضِ الصَّوْتِ وَتَخْمِيرِ الْوَجْهِ عِنْدَ الْعُطَاسِ
باب: چھینکتے وقت آواز دھیمی کرنے اور منہ ڈھانپ لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2745
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا عَطَسَ غَطَّى وَجْهَهُ بِيَدِهِ أَوْ بِثَوْبِهِ وَغَضَّ بِهَا صَوْتَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چھینک آتی تھی تو اپنے ہاتھ سے یا اپنے کپڑے سے منہ ڈھانپ لیتے، اور اپنی آواز کو دھیمی کرتے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2745]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الأدب 98 (5029) (تحفة الأشراف: 12581) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چھینک آتے وقت دوسروں کا خیال رکھا جائے، ایسا نہ ہو کہ ناک سے نکلے ہوئے ذرات دوسروں پر پڑیں، اس لیے ہاتھ یا کپڑے منہ پر رکھ لینا چاہیئے، اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام نے تہذیب و شائستگی کے ساتھ ساتھ نظافت پربھی زور دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، الروض النضير (1109)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں