🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

28. باب مَا جَاءَ فِي نَظْرَةِ الْمُفَاجَأَةِ
باب: (غیر محرم پر) اچانک نظر پڑ جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2776
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفُجَاءَةِ " فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرٍو اسْمُهُ هَرِمٌ.
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (کسی اجنبیہ عورت پر) اچانک پڑ جانے والی نظر سے متعلق پوچھا۔ تو آپ نے فرمایا: تم اپنی نگاہ پھیر لیا کرو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2776]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأدب 10 (2159)، سنن ابی داود/ النکاح 44 (2148) (تحفة الأشراف: 3237)، و مسند احمد (4/358، 361)، وسنن الدارمی/الاستئذان 15 (2685) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ کسی مقصد و ارادہ کے بغیر اگر اچانک کسی اجنبی عورت پر نگاہ پڑ جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حرج اور گناہ تو اس میں ہے کہ اس پر باربار نگاہ مقصد و ارادہ کے ساتھ ڈالی جائے، اور یہ کہ اچانک نگاہ کو بھی فوراً پھیر لیا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح حجاب المرأة (35) ، صحيح أبي داود (1864)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2777
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، رَفَعَهُ قَالَ: " يَا عَلِيُّ، لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ.
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی! نظر کے بعد نظر نہ اٹھاؤ، کیونکہ تمہارے لیے پہلی نظر (معاف) ہے اور دوسری (معاف) نہیں ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2777]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ النکاح 44 (2149) (تحفة الأشراف: 2007) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اگر اچانک پہلی مرتبہ تمہاری نگاہ کسی پر پڑ گئی تو یہ معاف ہے، لیکن تمہارا دوبارہ دیکھنا قابل گرفت ہو گا (اور پہلی والی بھی فوراً ہٹا لینی ہو گی)۔
قال الشيخ الألباني: حسن الحجاب (34) ، صحيح أبي داود (1865)
قال الشيخ زبير على زئي:(2777) إسناده ضعيف / د 2149

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں