سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. باب وَمِنْ سُورَةِ الْفَجْرِ
باب: سورۃ الفجر سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3342
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَأَبُو دَاوُدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عِصَامٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ؟ فَقَالَ: " هِيَ الصَّلَاةُ بَعْضُهَا شَفْعٌ وَبَعْضُهَا وِتْرٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ، وَقَدْ رَوَاهُ خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ الْحُدَّانِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ أَيْضًا.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» (جفت) اور «الوتر» (طاق) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» (جفت) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» (طاق) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں،
۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3342]
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں،
۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3342]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1089) (ضعیف الإسناد) (سند میں ایک مبہم راوی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:(3342) إسناده ضعيف
قتادة عنعن (تقدم:30) ورجل من أهل البصرة مجهول
قتادة عنعن (تقدم:30) ورجل من أهل البصرة مجهول