سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب مِنْهُ
باب: سوتے اور جاگتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 3417
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ قَالَ: " اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا "، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَا نَفْسِي بَعْدَ مَا أَمَاتَهَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
حذیفہ بن الیمان رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو کہتے: «اللهم باسمك أموت وأحيا» ۱؎، اور جب آپ سو کر اٹھتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أحيا نفسي بعد ما أماتها وإليه النشور» ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3417]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 7 (6312)، والتوحید 13 (7394)، سنن ابی داود/ الأدب 107 (5049)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 16 (3880) (تحفة الأشراف: 3308)، و مسند احمد (5/154)، وسنن الدارمی/الاستئذان 53 (2728) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تیرا ہی نام لے کر مرتا (یعنی سوتا) ہوں اور تیرا ہی نام لے کر جیتا (یعنی سو کر اٹھتا) ہوں۔ ۲؎: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری جان (میری ذات) کو زندگی بخشی، اس کے بعد کہ اسے (عارضی) موت دے دی تھی اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے، بعض روایات میں اس کے الفاظ یوں بھی آئے ہیں، «الحمد لله الذي أحيا نفسي بعد ما أماتها وإليه النشور» (معنی ایک ہی ہے)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3880)