سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب مِنْهُ
باب: مسافر کو الوداع کہتے وقت پڑھی جانے والی دعا سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 3444
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ سَفَرًا فَزَوِّدْنِي، قَالَ: " زَوَّدَكَ اللَّهُ التَّقْوَى "، قَالَ: زِدْنِي، قَالَ: " وَغَفَرَ ذَنْبَكَ "، قَالَ: زِدْنِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ: " وَيَسَّرَ لَكَ الْخَيْرَ حَيْثُمَا كُنْتَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں، تو آپ مجھے کوئی توشہ دے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تجھے تقویٰ کا زاد سفر دے“، اس نے کہا: مزید اضافہ فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے“، اس نے کہا: مزید کچھ اضافہ فرما دیجئیے، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے فرمایا: ”جہاں کہیں بھی تم رہو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے خیر (بھلائی کے کام) آسان کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3444]
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 274) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح الكلم الطيب (170 / 123 / التحقيق الثاني)