سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. (باب)
(ثقہ رواۃ اور ان کے مراتب و درجات)
حدیث نمبر: Q3960
قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَحَدَّثَنِي أَبُوالْوَلِيدِ، قَالَ: قَالَ لِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ: إِنْ أَرَدْتَ الْحَدِيثَ فَعَلَيْكَ بِشُعْبَةَ.
ابوالولید کہتے ہیں کہ حماد بن سلمہ نے کہا: اگر تمہیں حدیث چاہیئے تو شعبہ کا دامن پکڑ لو۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ، قَالَ: قَالَ شُعْبَةُ: مَا رَوَيْتُ عَنْ رَجُلٍ حَدِيثًا وَاحِدًا إِلا أَتَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ مَرَّةٍ، وَالَّذِي رَوَيْتُ عَنْهُ عَشَرَةَ أَحَادِيثَ أَتَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ عَشْرِ مِرَارٍ، وَالَّذِي رَوَيْتُ عَنْهُ خَمْسِينَ حَدِيثًا أَتَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ خَمْسِينَ مَرَّةً، وَالَّذِي رَوَيْتُ عَنْهُ مِائَةً أَتَيْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ، إِلا حَيَّانَ الْكُوفِيَّ الْبَارِقِيَّ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ هَذِهِ الأَحَادِيثَ، ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ؛ فَوَجَدْتُهُ قَدْ مَاتَ.
شعبہ کہتے ہیں: میں نے جس راوی سے بھی ایک حدیث روایت کی، اس کے پاس ایک سے زیادہ بار آیا، اور جس سے دس حدیث روایت کی اس کے پاس دس بار سے زیادہ آیا، اور جس سے (۵۰) حدیث روایت کی اس کے پاس پچاس بار سے زیادہ آیا، اور جس سے سو حدیث روایت کی اس کے پاس سو بار سے زیادہ آیا، إلا یہ کہ حیان کوفی سے میں نے یہ احادیث سنیں، دوبارہ ان کے پاس گیا تو ان کی وفات ہو گئی تھی۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ قَال: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ: شُعْبَةُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْحَدِيثِ.
عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں کہ میں نے سفیان ثوری کو کہتے سنا: شعبہ حدیث میں امیر المؤمنین ہیں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، قَال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ شُعْبَةَ، وَلا يَعْدِلُهُ أَحَدٌ عِنْدِي، وَإِذَا خَالَفَهُ سُفْيَانُ أَخَذْتُ بِقَوْلِ سُفْيَانَ.
علی بن المدینی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید القطان کو کہتے سنا: مجھے شعبہ سے زیادہ کوئی پسند نہیں ہے، میرے نزدیک ان کا ہم پلہ کوئی نہیں، جب ان کی مخالفت سفیان ثوری کرتے ہیں، تو میں سفیان ثوری کے قول کو قبول کرتا ہوں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: Q3960
قَالَ عَلِيٌّ: قُلْتُ لِيَحْيَى: أَيُّهُمَا كَانَ أَحْفَظَ لِلأَحَادِيثِ الطِّوَالِ سُفْيَانُ أَوْ شُعْبَةُ قَالَ: كَانَ شُعْبَةُ؟ أَمَرَّ فِيهَا.
علی بن المدینی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے کہا: لمبی احادیث کو سفیان ثوری زیادہ یاد رکھتے ہیں، یا شعبہ؟ کہا: شعبہ زیادہ یاد رکھتے تھے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: 3961
قَالَ يَحْيَى: وَكَانَ شُعْبَةُ أَعْلَمَ بِالرِّجَالِ فُلانٌ عَنْ فُلانٍ، وَكَانَ سُفْيَانُ صَاحِبَ أَبْوَابٍ.
یحیی القطان کہتے ہیں: شعبہ رواۃ حدیث یعنی کون راوی کس سے روایت کرتا ہے کے سب سے بڑے ماہر عالم تھے، اور سفیان ثوری فقہی ابواب کے ماہر تھے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: 3961]
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ: الأَئِمَّةُ فِي الأَحَادِيثِ أَرْبَعَةٌ: سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَالأَوْزَاعِيُّ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ.
عمرو بن علی الفلاس کہتے ہیں کہ میں نے ابن مہدی کو کہتے سنا: ائمہ حدیث چار ہیں: سفیان ثوری، مالک بن انس، اوزاعی اور حماد بن زید۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَال سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ: قَالَ شُعْبَةُ: سُفْيَانُ أَحْفَظُ مِنِّي، مَا حَدَّثَنِي سُفْيَانُ عَنْ شَيْخٍ بِشَيْئٍ فَسَأَلْتُهُ إِلا وَجَدْتُهُ كَمَا حَدَّثَنِي.
وکیع کہتے ہیں کہ میں نے شعبہ کو کہتے سنا: سفیان ثوری مجھ سے زیادہ حدیث کے حافظ ہیں، سفیان ثوری نے ہم سے جب بھی کسی شیخ کی حدیث روایت کی تو میں نے ان سے اس کے بارے میں سوال کیا، تو پایا کہ وہ ویسے ہی تھی جیسے مجھ سے بیان کیا تھا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]
حدیث نمبر: Q3961
سَمِعْت إِسْحَاقَ بْنَ مُوسَى الأَنْصَارِيَّ، قَال: سَمِعْتُ مَعْنَ بْنَ عِيسَى الْقَزَّازَ يَقُولُ: كَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُشَدِّدُ فِي حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَائِ وَالتَّائِ وَنَحْوِهِمَا.
معن بن عیسیٰ القزاز کہتے ہیں: مالک بن انس حدیث رسول کی روایت میں سختی کرتے تھے، ی، ت وغیرہ الفاظ تک میں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ قُرَيْمٍ الأَنْصَارِيُّ قَاضِي الْمَدِينَةِ، قَالَ: مَرَّ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَلَى أَبِي حَازِمٍ وَهُوَ جَالِسٌ؛ فَجَازَهُ فَقِيلَ لَهُ: لِمَ لَمْ تَجْلِسْ؟ فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَجِدْ مَوْضِعًا أَجْلِسُ فِيهِ، وَكَرِهْتُ أَنْ آخُذَ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَائِمٌ.
قاضی مدینہ ابراہیم بن عبداللہ بن قریم انصاری کہتے ہیں: امام مالک کا گزر ابوحازم پر ہوا تو وہ بیٹھے تھے، آگے گزر گئے، تو ان سے کہا گیا کہ آپ کیوں نہیں بیٹھے؟ کہا: مجھے بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں ملی تو میں نے یہ بات ناپسندیدہ سمجھی کہ حدیث رسول کھڑے کھڑے سنوں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]