سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. (باب)
(ثقہ رواۃ اور ان کے مراتب و درجات)
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ:"مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ" أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ"سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ".
یحیی بن سعید القطان کہتے ہیں: ”بسند مالک عن سعید بن المسیب“ روایت کردہ حدیث مجھے ”سفیان ثوری عن ابراہیم نخعی“ سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]
حدیث نمبر: Q3961
قَالَ يَحْيَى: مَا فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ أَصَحُّ حَدِيثًا مِنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، كَانَ مَالِكٌ إِمَامًا فِي الْحَدِيثِ.
یحیی بن سعید القطان کہتے ہیں: جماعت محدثین میں مالک سے زیادہ صحیح حدیث والا کوئی نہیں، مالک امام حدیث تھے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]
حدیث نمبر: Q3961
سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ بِعَيْنِي مِثْلَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ.
احمد بن الحسن کہتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا: میں نے یحییٰ بن سعید القطان کے ہم مثل کسی کو نہیں دیکھا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]
حدیث نمبر: Q3961
قَالَ أَحْمَدُ بن الحسن: وَسُئِلَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ وَكِيعٍ وَعَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ فَقَالَ أَحْمَدُ: وَكِيعٌ أَكْبَرُ فِي الْقَلْبِ، وَعَبْدُالرَّحْمَنِ إِمَامٌ.
احمد بن الحسن کہتے ہیں: احمد بن حنبل سے وکیع اور عبدالرحمٰن بن مہدی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے کہا: وکیع بن جراح دل کے (یعنی ورع، تقویٰ، زہد، عبادت اور ریاضت میں) بڑے ہیں، اور عبدالرحمٰن بن مہدی امام ہیں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]
حدیث نمبر: Q3961
سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نَبْهَانَ بْنِ صَفْوَانَ الثَّقَفِيَّ الْبَصْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ: لَوْ حُلِّفْتُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ لَحَلَفْتُ أَنِّي لَمْ أَرَ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.
علی بن المدینی کہتے ہیں: اگر رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان مجھ سے حلف لیا جائے تو میں قسم کھا سکتا ہوں کہ میں نے عبدالرحمٰن بن مہدی سے بڑا عالم نہیں دیکھا ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]
حدیث نمبر: Q3961
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْكَلامُ فِي هَذَا وَالرِّوَايَةُ عَنْ أَهْلِ الْعِلْمِ تَكْثُرُ، وَإِنَّمَا بَيَّنَّا شَيْئًا مِنْهُ عَلَى الاخْتِصَارِ لِيُسْتَدَلَّ بِهِ عَلَى مَنَازِلِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَتَفَاضُلِ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْحِفْظِ وَالإِتْقَانِ، وَمَنْ تُكُلِّمَ فِيهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لأَيِّ شَيْئٍ تُكُلِّمَ فِيهِ.
امام ترمذی کہتے ہیں: رواۃ حدیث کے بارے میں کلام، اور اہل علم سے اس موضوع پر روایات بہت ساری ہیں، ہم نے مختصراً کچھ باتیں ذکر کر دی ہیں، تاکہ اس سے اہل علم کے مراتب اور ان کے مابین حفظ و اتقان میں تفاوت اور فرق پر استدلال کیا جا سکے، اور یہ جانا جا سکے کہ اہل علم نے جن رواۃ پر کلام کیا ہے، اس کے اسباب کیا ہیں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]