صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
76. بَابُ بَيْعِ الشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ:
باب: جَو کے بدلے جَو کی بیع کرنا۔
حدیث نمبر: 2174
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي، فَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ، وَعُمَرُ يَسْمَعُ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، اور انہیں مالک بن اوس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہیں سو اشرفیاں بدلنی تھیں۔ (انہوں نے بیان کیا کہ) پھر مجھے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما نے بلایا۔ اور ہم نے (اپنے معاملہ کی) بات چیت کی۔ اور ان سے میرا معاملہ طے ہو گیا۔ وہ سونے (اشرفیوں) کو اپنے ہاتھ میں لے کر الٹنے پلٹنے لگے اور کہنے لگے کہ ذرا میرے خزانچی کو غابہ سے آ لینے دو۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی ہماری باتیں سن رہے تھے، آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جب تک تم طلحہ سے روپیہ لے نہ لو، ان سے جدا نہ ہونا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سونا سونے کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے۔ گیہوں، گیہوں کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے۔ جَو، جَو کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے اور کھجور، کھجور کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2174]
حضرت مالک بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ مجھے سو دینار کے عوض ریزگاری کی ضرورت پیش آئی تو مجھے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے بلایا، ہم آپس میں نرخ کے متعلق گفتگو کرنے لگے، بالآخر انہوں نے مجھ سے بیع صرف (یعنی درہم دینے) کا معاملہ طے کر لیا، انہوں نے سونا (یعنی دینار) لیے اور ہاتھوں میں لے کر انہیں الٹ پلٹ کر دیکھنا شروع کر دیا، پھر کہا: اس قدر انتظار کرو کہ میرا خزانچی مقامِ غابہ سے آ جائے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی یہ گفتگو سن رہے تھے، انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! جب تک درہم وصول نہ کر لو اس سے جدا نہ ہونا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”سونا سونے کے عوض فروخت کرنا سود ہے جب تک دست بدست نہ ہو، اور گندم کو گندم کے عوض فروخت کرنا سود ہے، مگر نقد بنقد سودا کرنا جائز ہے، اسی طرح جو کی بیع جو کے ساتھ سود ہو گی جب تک دست بدست نہ ہو، اور کھجور کی بیع بھی کھجور کے ساتھ سود ہے جب تک دست بدست نہ ہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2174]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة