🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

96. بَابُ بَيْعِ الشَّرِيكِ مِنْ شَرِيكِهِ:
باب: ایک ساجھی اپنا حصہ دوسرے ساجھی کے ہاتھ بیچ سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2213
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ".
ہم سے محمود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کا حق ہر اس مال میں قرار دیا تھا جو تقسیم نہ ہوا ہو، لیکن اس کی حد بندی ہو جائے اور راستے بھی پھیر دیئے جائیں تو اب شفعہ کا حق باقی نہیں رہا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2213]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر غیر تقسیم شدہ مال میں حقِ شفعہ قائم رکھا ہے، لیکن جب تقسیم ہونے کے بعد حدیں واقع ہو جائیں اور راستے بدل جائیں تو شفعہ ساقط ہو جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2213]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں