صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
111. بَابُ هَلْ يُسَافِرُ بِالْجَارِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَسْتَبْرِئَهَا:
باب: اگر لونڈی خریدے تو استبراء رحم سے پہلے اس کو سفر میں لے جا سکتا ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: Q2235
وَلَمْ يَر الْحَسَنُ بَأْسًا أَنْ يُقَبِّلَهَا أَوْ يُبَاشِرَهَا، وَقَال ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: إِذَا وُهِبَتِ الْوَلِيدَةُ الَّتِي تُوطَأُ أَوْ بِيعَتْ أَوْ عَتَقَتْ، فَلْيُسْتَبْرَأْ رَحِمُهَا بِحَيْضَةٍ وَلَا تُسْتَبْرَأُ الْعَذْرَاءُ، وَقَالَ عَطَاءٌ: لَا بَأْسَ أَنْ يُصِيبَ مِنْ جَارِيَتِهِ الْحَامِلِ مَا دُونَ الْفَرْجِ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِلا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ سورة المؤمنون آية 6.
اور امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ ایسی باندی کا (اس کا مالک) بوسہ لے لے یا اپنے جسم سے لگائے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب ایسی باندی جس سے وطی کی جا چکی ہے، ہبہ کی جائے یا بیچی جائے یا آزاد کی جائے تو ایک حیض تک اس کا استبراء رحم کرنا چاہئے۔ اور کنواری کے لیے استبراء رحم کی ضرورت نہیں ہے۔ عطاء نے کہا کہ اپنی حاملہ باندی سے شرمگاہ کے سوا باقی جسم سے فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ مومنون میں فرمایا «إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم» ”مگر اپنی بیویوں سے یا باندیوں سے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: Q2235]
حدیث نمبر: 2235
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:"قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ، ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَكَانَتْ عَرُوسًا، فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الرَّوْحَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ، فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ، فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ حَتَّى تَرْكَبَ".
ہم سے عبدالغفار بن داؤد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عمرو بن ابی عمرو نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ نے قلعہ فتح کرا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کے حسن کی تعریف کی گئی۔ ان کا شوہر قتل ہو گیا تھا۔ وہ خود ابھی دلہن تھیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے پسند کر لیا۔ پھر روانگی ہوئی۔ جب آپ سد الروحاء پہنچے تو پڑاؤ ہوا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں ان کے ساتھ خلوت کی۔ پھر ایک چھوٹے دستر خوان پر حیس تیار کر کے رکھوایا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اپنے قریب کے لوگوں کو ولیمہ کی خبر کر دو۔ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کا یہی ولیمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ پھر جب ہم مدینہ کی طرف چلے تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباء سے صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے پردہ کرایا۔ اور اپنے اونٹ کو پاس بٹھا کر اپنا ٹخنہ بچھا دیا۔ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹخنے پر رکھ کر سوار ہو گئیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2235]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر تشریف لائے۔ جب اللہ تعالیٰ نے خیبر کے قلعوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح عطا فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدتنا صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حیی بن اخطب کا حسن و جمال ذکر کیا گیا۔ ان کا شوہر قتل ہو چکا تھا اور وہ خود دلہن بنی ہوئی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے منتخب فرما لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں خیبر سے ساتھ لے کر چلے۔ جب سدروحاء پر پہنچے تو سیدتنا صفیہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خلوت اختیار کی۔ پھر ایک چھوٹے سے دستر خوان پر حلوہ تیار کر کے رکھ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ارد گرد لوگوں میں اعلان کرو (کہ وہ آکر اسے کھائیں)۔“ بس یہی سیدتنا صفیہ رضی اللہ عنہا کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دعوتِ ولیمہ تھی۔ پھر ہم مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ اپنے پیچھے اپنی عباء سے سیدتنا صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے جگہ ہموار کر رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے پاس بیٹھ کر اپنا گھٹنا رکھ دیا تو سیدتنا صفیہ رضی اللہ عنہا نے اپنا پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے پر رکھا اور اونٹ پر سوار ہو گئیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2235]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة