صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ السَّلَمِ إِلَى أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ:
باب: بیع سلم میں یہ میعاد لگانا کہ جب اونٹنی بچہ جنے۔
حدیث نمبر: 2256
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهِ عَنْهُ، قَالَ:" كَانُوا يَتَبَايَعُونَ الْجَزُورَ إِلَى حَبَلِ الْحَبَلَةِ، فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ"، فَسَّرَهُ نَافِعٌ، أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ مَا فِي بَطْنِهَا.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہیں جویریہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگ اونٹ وغیرہ حمل کے حمل ہونے کی مدت تک کے لیے بیچتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ نافع نے «حبل الحبلة» کی تفسیر یہ کی ”یہاں تک کہ اونٹنی کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ اسے جن لے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب السَّلَمِ/حدیث: 2256]
حضرت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ دورِ جاہلیت میں لوگ «حَبَلِ الْحَبَلَةِ» کی مدت کے وعدے پر اونٹوں کی خرید و فروخت کرتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ حضرت نافع رحمہ اللہ نے «حَبَلِ الْحَبَلَةِ» کی تفسیر بایں الفاظ کی کہ اونٹنی بچہ جنے جو اس کے پیٹ میں ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب السَّلَمِ/حدیث: 2256]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة