صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ عَرْضِ الشُّفْعَةِ عَلَى صَاحِبِهَا قَبْلَ الْبَيْعِ:
باب: شفعہ کا حق رکھنے والے کے سامنے بیچنے سے پہلے شفعہ پیش کرنا۔
حدیث نمبر: Q2258
وَقَالَ الْحَكَمُ: إِذَا أَذِنَ لَهُ قَبْلَ الْبَيْعِ فَلَا شُفْعَةَ لَهُ، وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: مَنْ بِيعَتْ شُفْعَتُهُ وَهْوَ شَاهِدٌ لَا يُغَيِّرُهَا فَلَا شُفْعَةَ لَهُ.
حکم نے کہا کہ اگر بیچنے سے پہلے شفعہ کا حق رکھنے والے نے بیچنے کی اجازت دی تو پھر اس کا حق شفعہ ختم ہو جاتا ہے۔ شعبی نے کہا کہ حق شفعہ رکھنے والے کے سامنے جب مال بیچا گیا اور اس نے اس بیع پر کوئی اعتراض نہیں کیا تو اس کا حق شفعہ باقی نہیں رہتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّفْعَةِ/حدیث: Q2258]
حدیث نمبر: 2258
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، قَالَ:" وَقَفْتُ عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَجَاءَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى إِحْدَى مَنْكِبَيَّ، إِذْ جَاءَ أَبُو رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا سَعْدُ ابْتَعْ مِنِّي بَيْتَيَّ فِي دَارِكَ، فَقَالَ سَعْدٌ: وَاللَّهِ مَا أَبْتَاعُهُمَا، فَقَالَ الْمِسْوَرُ: وَاللَّهِ لَتَبْتَاعَنَّهُمَا، فَقَالَ سَعْدٌ: وَاللَّهِ لَا أَزِيدُكَ عَلَى أَرْبَعَةِ آلَافٍ مُنَجَّمَةً أَوْ مُقَطَّعَةً، قَالَ أَبُو رَافِعٍ: لَقَدْ أُعْطِيتُ بِهَا خَمْسَ مِائَةِ دِينَارٍ، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا أَعْطَيْتُكَهَا بِأَرْبَعَةِ آلَافٍ، وَأَنَا أُعْطَى بِهَا خَمْسَ مِائَةِ دِينَارٍ، فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ".
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھ کو ابراہیم بن میسرہ نے خبر دی، انہیں عمرو بن شرید نے، کہا کہ میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑا تھا کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اپنا ہاتھ میرے شانے پر رکھا۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابورافع رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور فرمایا کہ اے سعد! تمہارے قبیلہ میں جو میرے دو گھر ہیں، انہیں تم خرید لو۔ سعد رضی اللہ عنہ بولے کہ بخدا میں تو انہیں نہیں خریدوں گا۔ اس پر مسور رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں جی تمہیں خریدنا ہو گا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر میں چار ہزار سے زیادہ نہیں دے سکتا۔ اور وہ بھی قسط وار۔ ابورافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے پانچ سو دینار ان کے مل رہے ہیں۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ حقدار ہے۔ تو میں ان گھروں کو چار ہزار پر تمہیں ہرگز نہ دیتا۔ جب کہ مجھے پانچ سو دینار ان کے مل رہے ہیں۔ چنانچہ وہ دونوں گھر ابورافع رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو دے دئیے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّفْعَةِ/حدیث: 2258]
حضرت عمرو بن شرید رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑا تھا کہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اپنا ایک ہاتھ میرے کندھے پر رکھا، اتنے میں حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ تھے، آئے اور کہا: اے سعد! تم میرے دونوں مکان جو تمہارے محلے میں واقع ہیں مجھ سے خرید لو، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تو نہیں خریدتا، حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تمہیں یہ مکان خریدنا ہوں گے، تب حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں چار ہزار (درہم) سے زیادہ نہیں دوں گا اور وہ بھی بالاقساط ادائیگی کروں گا، حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے تو ان گھروں کے پانچ صد دینار ملتے ہیں، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا کہ: «اَلْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ» ”پڑوسی اپنے قریب کی وجہ سے زیادہ حقدار ہے“ تو میں تمہیں چار ہزار درہم میں ہرگز نہ دیتا خصوصاً جبکہ مجھے پانچ صد دینار مل رہے ہیں، بالآخر انہوں نے وہ دونوں مکان حضرت سعد رضی اللہ عنہ ہی کو دے دیے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّفْعَةِ/حدیث: 2258]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة