صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَابُ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ:
باب: اس بارے میں کہ ٹخنوں تک پاؤں دھونا ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 186
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، شَهِدْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ سَأَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَوَضَّأَ لَهُمْ وُضُوءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأَكْفَأَ عَلَى يَدِهِ مِنَ التَّوْرِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَحَ رَأْسَهُ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ".
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، انہوں نے عمرو سے، انہوں نے اپنے باپ (یحییٰ) سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میری موجودگی میں عمرو بن ابی حسن نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے پانی کا طشت منگوایا اور ان (پوچھنے والوں) کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سا وضو کیا۔ (پہلے طشت سے) اپنے ہاتھوں پر پانی گرایا۔ پھر تین بار ہاتھ دھوئے، پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا (اور پانی لیا) پھر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، ناک صاف کی، تین چلوؤں سے، پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا اور تین مرتبہ منہ دھویا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو بار دھوئے۔ پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈالا اور سر کا مسح کیا۔ (پہلے) آگے لائے پھر پیچھے لے گئے، ایک بار۔ پھر ٹخنوں تک اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 186]
عمرو بن ابی حسن سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے پانی کا برتن منگوایا اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کر کے دکھایا، چنانچہ برتن کو جھکا کر اپنے ہاتھ میں پانی لیا اور ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر برتن میں ہاتھ ڈال کر پانی لیا، اس سے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور اسے صاف کیا، یہ سب کام تین چلوؤں سے کیے، پھر برتن میں ہاتھ ڈالا اور چہرہ مبارک کو تین بار دھویا، بعد ازاں دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دو مرتبہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ ڈالا اور «إِقْبَالٌ وَإِدْبَارٌ» کے ساتھ ایک مرتبہ سر کا مسح کیا، اس کے بعد اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 186]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة