صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ اسْتِعْمَالِ فَضْلِ وَضُوءِ النَّاسِ:
باب: لوگوں کے وضو کا بچا ہوا پانی استعمال کرنا۔
حدیث نمبر: Q187
وَأَمَرَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَهْلَهُ أَنْ يَتَوَضَّئُوا بِفَضْلِ سِوَاكِهِ.
جریر بن عبداللہ نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا تھا کہ وہ ان کے مسواک کے بچے ہوئے پانی سے وضو کر لیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: Q187]
حدیث نمبر: 187
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، يَقُولُ:" خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ، فَأُتِيَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ فَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ.
ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حکم نے بیان کیا، انہوں نے ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس دوپہر کے وقت تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی حاضر کیا گیا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر اسے (اپنے بدن پر) پھیرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں ادا کیں اور عصر کی بھی دو رکعتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (آڑ کے لیے) ایک نیزہ تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 187]
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت ہمارے ہاں تشریف لائے۔ آپ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا تو آپ نے وضو فرمایا۔ پھر لوگ آپ کے وضو سے باقی ماندہ پانی لینے لگے اور بدن پر ملنے لگے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی دو، دو رکعتیں ادا کیں اور دورانِ نماز میں آپ کے سامنے ایک برچھی گاڑی گئی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 187]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 188
وَقَالَ أَبُو مُوسَى: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ، وَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا: اشْرَبَا مِنْهُ وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا".
(اور ایک دوسری حدیث میں) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا۔ جس میں پانی تھا۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور اسی پیالہ میں منہ دھویا اور اس میں کلی فرمائی، پھر فرمایا، تو تم لوگ اس کو پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر ڈال لو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 188]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا جس میں پانی تھا، پھر آپ نے اس پیالے میں اپنے دونوں ہاتھ اور چہرہ مبارک دھویا اور اس میں کلی فرمائی، پھر ان دونوں سے فرمایا: ”اس میں سے کچھ پانی نوش جان کر لو اور کچھ اپنے چہروں اور سینوں پر ڈال لو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 188]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 189
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: وَهُوَ الَّذِي مَجّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ، وَهُوَ غُلَامٌ مِنْ بِئْرِهِمْ، وَقَالَ عُرْوَةُ: عَنْ الْمِسْوَرِ وَغَيْرِهِ يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ،" وَإِذَا تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے، کہا ہم سے میرے باپ نے، انہوں نے صالح سے سنا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، کہا انہیں محمود بن الربیع نے خبر دی، ابن شہاب کہتے ہیں محمود وہی ہیں کہ جب وہ چھوٹے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کے کنویں (کے پانی) سے ان کے منہ میں کلی ڈالی تھی اور عروہ نے اسی حدیث کو مسور وغیرہ سے بھی روایت کیا ہے اور ہر ایک (راوی) ان دونوں میں سے ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے ہوئے وضو کے پانی پر صحابہ رضی اللہ عنہم جھگڑنے کے قریب ہو جاتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 189]
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، یہ وہی محمود ہیں جن کے چہرے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی کے کنویں کے پانی سے کلی فرمائی تھی جب کہ وہ بچے تھے۔ حضرت عروہ رحمہ اللہ، حضرت مسور رضی اللہ عنہ وغیرہ سے بیان کرتے ہیں، ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے وضو سے بچے ہوئے پانی کو لینے کے لیے آپس میں جھگڑتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 189]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة