صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَنْ آجَرَ نَفْسَهُ لِيَحْمِلَ عَلَى ظَهْرِهِ. ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهِ وَأُجْرَةِ الْحَمَّالِ:
باب: جس نے اپنی پیٹھ پر بوجھ اٹھانے کی مزدوری کی یعنی «حمالی» کی اور پھر اسے صدقہ کر دیا اور «حمال» کی اجرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2273
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا" أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ، انْطَلَقَ أَحَدُنَا إِلَى السُّوقِ فَيُحَامِلُ فَيُصِيبُ الْمُدَّ، وَإِنَّ لِبَعْضِهِمْ لَمِائَةَ أَلْفٍ، قَالَ: مَا تَرَاهُ إِلَّا نَفْسَهُ".
ہم سے سعید بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ (یحییٰ بن سعید قریش) نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شفیق نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، تو بعض لوگ بازاروں میں جا کر بوجھ اٹھاتے جن سے ایک مد مزدوری ملتی (وہ اس میں سے بھی صدقہ کرتے) آج ان میں سے کسی کے پاس لاکھ لاکھ (درہم یا دینار) موجود ہیں۔ شفیق نے کہا ہمارا خیال ہے کہ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کسی سے اپنے ہی تیئں مراد لیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِجَارَةِ/حدیث: 2273]
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صدقہ و خیرات کرنے کا حکم دیتے تو ہم میں سے کوئی شخص بازار جاتا اور باربرداری کر کے (بوجھ اٹھا کر) ایک «مُدّ» غلہ حاصل کرتا (اور اسے صدقہ کرتا) جبکہ آج ان میں سے بعض لاکھوں میں کھیلتے ہیں۔ راویِ حدیث شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے خیال کے مطابق حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے "بعض" سے مراد خود ہی کو لیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِجَارَةِ/حدیث: 2273]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة