🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. بَابُ أَجْرِ السَّمْسَرَةِ:
باب: دلالی کی اجرت لینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2274
وَلَمْ يَرَ ابْنُ سِيرِينَ، وَعَطَاءٌ، وَإِبْرَاهِيمُ، وَالْحَسَنُ بِأَجْرِ السِّمْسَارِ بَأْسًا، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا بَأْسَ أَنْ يَقُولَ بِعْ هَذَا الثَّوْبَ، فَمَا زَادَ عَلَى كَذَا وَكَذَا فَهُوَ لَكَ، وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: إِذَا قَالَ بِعْهُ بِكَذَا فَمَا كَانَ مِنْ رِبْحٍ فَهُوَ لَكَ، أَوْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِهِمْ.
‏‏‏‏ اور ابن سیرین اور عطاء اور ابراہیم اور حسن بصری رحمہم اللہ دلالی پر اجرت لینے میں کوئی برائی نہیں خیال کرتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، اگر کسی سے کہا جائے کہ یہ کپڑا اتنی قیمت میں بیچ لا۔ جتنا زیادہ ہو وہ تمہارا ہے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ابن سیرین نے فرمایا کہ اگر کسی نے کہا کہ اتنے میں بیچ لا، جتنا نفع ہو گا وہ تمہارا ہے یا (یہ کہا کہ) میرے اور تمہارے درمیان تقسیم ہو جائے گا۔ تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان اپنی طے کردہ شرائط پر قائم رہیں گے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِجَارَةِ/حدیث: Q2274]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2274
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ، وَلَا يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ"، قُلْتُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، مَا قَوْلُهُ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، قَالَ: لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے، ان سے ان کے باپ نے، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (تجارتی) قافلوں سے (منڈی سے آگے جا کر) ملاقات کرنے سے منع فرمایا تھا۔ اور یہ کہ شہری دیہاتی کا مال نہ بیچیں، میں نے پوچھا، اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! ”شہری دیہاتی کا مال نہ بیچیں“ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ ان کے دلال نہ بنیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِجَارَةِ/حدیث: 2274]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر سے منع فرمایا ہے کہ ”بازار میں مال تجارت لانے والوں سے آگے بڑھ کر معاملہ طے کیا جائے۔“ اور فرمایا کہ ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ فروخت کرے۔“ راویِ حدیث کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے“ اس کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کا دلال نہ بنے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِجَارَةِ/حدیث: 2274]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں