شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا
حدیث نمبر: 104
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا۔ [شمائل ترمذي/بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ/حدیث: 104]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«سنن ترمذي:1691، وقال: حسن غريب . سنن ابي داود، ح 2583 . سنن نسائي، ح 5376»
اس روایت کی سند قتادہ (مدلس) کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن سنن نسائی میں اس کا ایک صحیح شاہد ہے۔ [ج 8 ص 219 ح 5375 وسنده صحيح و صححه ابن الملقن فى تحفة المحتاج 147/1 ح 19]
«سنن ترمذي:1691، وقال: حسن غريب . سنن ابي داود، ح 2583 . سنن نسائي، ح 5376»
اس روایت کی سند قتادہ (مدلس) کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن سنن نسائی میں اس کا ایک صحیح شاہد ہے۔ [ج 8 ص 219 ح 5375 وسنده صحيح و صححه ابن الملقن فى تحفة المحتاج 147/1 ح 19]
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 105
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: «كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ»
سعید بن ابی الحسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا۔ [شمائل ترمذي/بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ/حدیث: 105]
تخریج الحدیث: { «صحیح» }:
«سنن ابي داود، ح 2584»
اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ قتادہ مدلس کا عنعنہ ہے۔
➋ تابعی کا ارسال ہے یعنی یہ روایت منقطع ہے۔
اس کا صحیح شاہد سابقہ حدیث (104) کے تحت گزر چکا ہے، جس کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے۔
«سنن ابي داود، ح 2584»
اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ قتادہ مدلس کا عنعنہ ہے۔
➋ تابعی کا ارسال ہے یعنی یہ روایت منقطع ہے۔
اس کا صحیح شاہد سابقہ حدیث (104) کے تحت گزر چکا ہے، جس کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح