🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

شمائل ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (417)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

تکیہ پر ٹیک لگانا تکبر کی علامت نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 133
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ» قَالَ أَبُو عِيسَى: «لَمْ يَذْكُرْ وَكِيعٌ عَلَى يَسَارِهِ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ إِسْرَائِيلَ نَحْوَ رِوَايَةِ وَكِيعٍ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى فِيهِ عَلَى يَسَارِهِ إِلَّا مَا رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنِ إِسْرَائِيلَ»
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں وکیع نے «علي يسارہ» کا لفظ ذکر نہیں کیا، اسی طرح بہت سے راویوں نے اسرائیل سے وکیع کی طرح یہ حدیث روایت کی ہے اور ہماری علم میں نہیں کہ اس حدیث میں «علي يسارہ» کا لفظ اسرائیل سے اسحاق بن منصور کے علاوہ کسی دوسرے راوی سے روایت کی ہو۔ [شمائل ترمذي/بَابُ مَا جَاءَ فِي تَكَأَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ/حدیث: 133]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«سنن ابي داود: 4143» ، نیز دیکھئیے حدیث سابق: 129
تنبیہ: باب نمبر 21 میں استراحت کے لئے یا بیٹھے ہوئے ٹیک لگانے کا بیان ہے اور باب نمبر 22 کمزوری یا کسی سبب سے چلتے پھرتے وقت کسی کے ساتھ سہارا لینے کا تذکرہ ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں