شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخاب کا گوشت کھایا
حدیث نمبر: 154
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «أَكَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حُبَارَى»
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سرخاب کا گوشت کھایا۔ [شمائل ترمذي/بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ إِدَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ/حدیث: 154]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
«سنن ترمذي: 1828، وقال: غريب . . . . سنن ابي داود: 3797»
یہ روایت اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اس کا راوی ابراہیم بن عمر بن سفینہ ضعیف ہے، اسے صرف ابن عدی نے ثقہ قرار دیا اور عقیلی، ابن حبان اور ذہبی یعنی جمہور نے ضعیف قرار دیا۔
(سابقہ) حدیث (153) میں یہ دلیل ہے کہ مرغی حلال ہے اور طیبات میں سے ہے۔
«سنن ترمذي: 1828، وقال: غريب . . . . سنن ابي داود: 3797»
یہ روایت اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اس کا راوی ابراہیم بن عمر بن سفینہ ضعیف ہے، اسے صرف ابن عدی نے ثقہ قرار دیا اور عقیلی، ابن حبان اور ذہبی یعنی جمہور نے ضعیف قرار دیا۔
(سابقہ) حدیث (153) میں یہ دلیل ہے کہ مرغی حلال ہے اور طیبات میں سے ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف