شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اے دو کانوں والے!
حدیث نمبر: 234
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ» قَالَ مَحْمُودٌ: قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: «يَعْنِي يُمَازِحُهُ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اے دو کانوں والے۔“ راوی محمود (بن غیلان) کہتے ہیں کہ ابواسامہ نے کہا: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مزاح کیا۔ [شمائل ترمذي/بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ مِزَاحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ/حدیث: 234]
تخریج الحدیث: { «حسن» }:
«(سنن ترمذي: 1992 وقال: حسن غريب صحيح)، سنن ابي داود (5002)، مسند احمد (127/3)»
اس روایت کی سند قاضی شریک رحمہ اللہ (مدلس) کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن المعجم الکبیر للطبرانی (240/1 ح662) میں اس کا ایک حسن لذاتہ شاہد ہے، جس کے ساتھ یہ روایت بھی حسن ہے۔
«(سنن ترمذي: 1992 وقال: حسن غريب صحيح)، سنن ابي داود (5002)، مسند احمد (127/3)»
اس روایت کی سند قاضی شریک رحمہ اللہ (مدلس) کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن المعجم الکبیر للطبرانی (240/1 ح662) میں اس کا ایک حسن لذاتہ شاہد ہے، جس کے ساتھ یہ روایت بھی حسن ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:حسن