Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

شمائل ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (417)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

نماز تہجد کی دعائیں اور التجائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 274
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْسٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ الْبَقَرَةَ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعَهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ وَكَانَ يَقُولُ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَكَانَ قِيَامُهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ، وَكَانَ يَقُولُ: «لِرَبِّيَ الْحَمْدُ، لِرَبِّيَ الْحَمْدُ» ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَ سُجُودُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، وَكَانَ يَقُولُ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَكَانَ مَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ نَحْوًا مِنَ السُّجُودِ، وَكَانَ يَقُولُ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي» حَتَّى قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءَ وَالْمَائِدَةَ أَوِ الْأَنْعَامَ «شُعْبَةُ الَّذِي شَكَّ فِي الْمَائِدَةِ وَالْأَنْعَامِ» قَالَ أَبُو عِيسَى:" وَأَبُو حَمْزَةَ اسْمُهُ: طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَأَبُو حَمْزَةَ الضُّبَعِيُّ اسْمُهُ: نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ"
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی تو فرمایا: اللہ سب سے بڑا ہے، وہ حکومت، طاقت، بڑائی اور عظمت والا ہے۔ فرماتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ البقرہ پڑھی، پھر رکوع کیا اور رکوع بھی قیام کی طرح طویل تھا۔ رکوع میں «سبحان ربي العظيم، سبحان ربي العظيم» پڑھتے تھے، پھر سر مبارک رکوع سے اٹھایا (اور قومہ کیا) اور قیام بھی رکوع کی طرح تھا اور اس میں «لربي الحمد، لربي الحمد» پڑھتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ کا سجدہ بھی قیام کی طرح طویل تھا اور اس میں «سبحان ربي الأعلى، سبحان ربي الأعلى» پڑھتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سے سر مبارک اٹھایا تو آپ دو سجدوں کے درمیان تقریباً سجدہ کے برابر بیٹھے اور «رب اغفر لي، رب اغفر لي» پڑھتے رہے۔ حتی کہ آپ نے سورۃ البقرہ، سورۃ آل عمران، سورۃ النساء، سورۃ المائدہ یا سورۃ الأنعام پڑھی۔ راوی حدیث شعبہ کو شک ہوا ہے کہ آپ نے سورۃ المائدہ پڑھی یا سورۃ الأنعام پڑھی تھی۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ (سند میں آنے والے) ابوحمزہ کا نام طلحہ بن زید ہے اور ابوحمزہ الضبعی کا نام نصر بن عمران ہے۔ [شمائل ترمذي/بَابُ مَا جَاءَ فِي عِبَادَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ/حدیث: 274]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏صحيح» ‏‏‏‏ }:
«سنن ابي داود (874)، سنن نسائي (1070)»
فائدہ: اس روایت میں «رجل من بني عبس» سے مراد صلہ بن زفر (ثقہ راوی) ہیں۔ دیکھئے سنن ابن ماجہ (797) اور مسند الطیالسی (416) لہٰذا یہ حدیث صحیح ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں