شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ میں کوئی درہم و دینار اور مویشی نہ تھے
حدیث نمبر: 406
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا» قَالَ: «وَأَشُكُّ فِي الْعَبْدِ وَالْأَمَةِ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی درہم و دینار نہیں چھوڑا، نہ کوئی بکری اور نہ کوئی اونٹ چھوڑا، راوی کہتا ہے۔ مجھے غلام اور لونڈی کے بارے میں شک ہے۔ [شمائل ترمذي/بَابُ: مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ/حدیث: 406]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
اس روایت کی سند امام سفیان بن عیینہ مدلس کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن صحیح مسلم (1256) اور سنن ابن ماجہ (2695) وغیرہما میں اس کے صحیح شواہد ہیں، جن کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے۔
اس روایت کی سند امام سفیان بن عیینہ مدلس کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن صحیح مسلم (1256) اور سنن ابن ماجہ (2695) وغیرہما میں اس کے صحیح شواہد ہیں، جن کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح