سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
فقاہت فی الدین کن لوگوں کی صفت ہے؟
ترقیم الباني: 651 ترقیم فقہی: -- 361
-" الخير عادة والشر لجاجة ومن يرد الله به خيرا يفقهه في الدين".
یونس بن میسرہ بن حلبس بیان کرتے ہیں کہ اس نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیر و بھلائی فطری چیز ہے اور شر و فساد تکلف ہے، اور اللہ تعالیٰ جس فرد کے بارے میں خیر و بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں، اسے دین میں فقاہت عطا کر دیتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/العلم والسنة والحديث النبوي/حدیث: 361]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 651
ترقیم الباني: 1194 ترقیم فقہی: -- 362
-" من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں، اس کو دین میں فقاہت عطا کرتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/العلم والسنة والحديث النبوي/حدیث: 362]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1194
ترقیم الباني: 1195 ترقیم فقہی: -- 363
-" من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين وإنما أنا قاسم والله يعطي ولن تزال هذه الأمة قائمة على أمر الله لا يضرهم من خالفهم حتى يأتي أمر الله".
حمید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ بن ابوسفيان رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتے ہیں، اس کو دین میں فقاہت عطا کرتے ہیں، میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں، عطا کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہے۔ میری امت (کی ایک جماعت) ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہے گی، ان کی مخالفت کرنے والے ان کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/العلم والسنة والحديث النبوي/حدیث: 363]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1195
ترقیم الباني: 1196 ترقیم فقہی: -- 364
-" من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين وإن هذا المال حلو خضر فمن يأخذه بحقه يبارك له فيه، وإياكم والتمادح فإنه الذبح".
معبد جہنی کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کم احادیث بیان کرتے تھے، اور ان کلمات کو تو کم ہی چھوڑتے تھے (یا راوی نے کہا: کہ) جمعہ کے خطبوں میں بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں، اس کو دین میں فقاہت عطا کر دیتے ہیں۔ یہ مال میٹھا سرسبز و شاداب (اور پرکشش) ہے، جو اس کو اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور تم لوگ ایک دوسرے کی تعریف کرنے سے بچو، کیونکہ ایسے کرنا ذبح کرنے کے (مترادف ہے)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/العلم والسنة والحديث النبوي/حدیث: 364]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1196