صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ مَنْ عَرَّفَ اللُّقَطَةَ، وَلَمْ يَدْفَعْهَا إِلَى السُّلْطَانِ:
باب: لقطہٰ کو بتلانا لیکن حاکم کے سپرد نہ کرنا۔
حدیث نمبر: 2438
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ اللُّقَطَةِ؟ قَالَ: عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِعِفَاصِهَا وَوِكَائِهَا، وَإِلَّا فَاسْتَنْفِقْ بِهَا، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ، وَقَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا سِقَاؤُهَا، وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، دَعْهَا حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ فَقَالَ: هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ".
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ربیعہ سے، ان سے منبعث کے غلام یزید نے، اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ، اگر کوئی ایسا شخص آ جائے جو اس کی بناوٹ اور بندھن کے بارے میں صحیح صحیح بتائے (تو اسے دیدے) ورنہ اپنی ضروریات میں اسے خرچ کر۔ انہوں نے جب ایسے اونٹ کے متعلق بھی پوچھا جو راستہ بھول گیا ہو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اس سے کیا مطلب؟ اس کے ساتھ اس کا مشکیزہ اور اس کے کھر موجود ہیں۔ وہ خود پانی تک پہنچ سکتا ہے۔ اور درخت کے پتے کھا سکتا ہے اور اس طرح وہ اپنے مالک تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے راستہ بھولی ہوئی بکری کے متعلق بھی پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا وہ تمہاری ہو گی یا تمہارے بھائی (اصل مالک) کو مل جائے گی۔ ورنہ اسے بھیڑیا اٹھا لے جائے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فِي اللُّقَطَةِ/حدیث: 2438]
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ چیز کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی ایک سال کی تشہیر کر، اگر کوئی آئے اور اس کی تھیلی اور بندھن کے بارے میں ٹھیک ٹھیک نشاندہی کر دے تو اس کے حوالے کر دے، بصورتِ دیگر اسے خرچ کر لے۔“ پھر اس نے آوارہ اونٹ کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ سے تجھے کیا تعلق؟ اس کا مشکیزہ اور جوتا اس کے ساتھ ہے، وہ خود چشمے پر جا کر پانی پی لے گا اور درختوں کے پتے کھا لے گا، اسے چھوڑ دے حتیٰ کہ اس کا مالک اسے پا لے۔“ پھر اس نے بھٹکی بکری کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرے لیے ہے، یا تیرے بھائی کے لیے یا پھر بھیڑیے کے لیے ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فِي اللُّقَطَةِ/حدیث: 2438]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة