صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابُ مَنْ مَضْمَضَ مِنَ السَّوِيقِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ:
باب: اس بارے میں کہ کوئی شخص ستو کھا کر صرف کلی کرے اور نیا وضو نہ کرے۔
حدیث نمبر: 209
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ أَدْنَى خَيْبَرَ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے امام مالک نے یحییٰ بن سعید کے واسطے سے خبر دی، وہ بشیر بن یسار بنی حارثہ کے آزاد کردہ غلام سے روایت کرتے ہیں کہ سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ فتح خیبر والے سال وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صہبا کی طرف، جو خیبر کے قریب ایک جگہ ہے پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی، پھر ناشتہ منگوایا گیا تو سوائے ستو کے اور کچھ نہیں لایا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ بھگو دیے گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور ہم نے (بھی) کھایا۔ پھر مغرب (کی نماز) کے لیے کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی اور ہم نے (بھی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 209]
حضرت سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فتح خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے تھے، جب مقام صہباء پر پہنچے جو خیبر کے قریب تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر ادا کی، پھر زادِ سفر طلب فرمایا تو صرف ستو لائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تیار کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ تیار شدہ ستو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب نے کھائے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف کلی فرمائی اور ہم نے بھی کلی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور نیا وضو نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 209]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 210
وحَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے اصبغ نے بیان کیا، کہا مجھے ابن وہب نے خبر دی، کہا مجھے عمرو نے بکیر سے، انہوں نے کریب سے، ان کو میمونہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں (بکری کا) شانہ کھایا پھر نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 210]
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس بکری کے شانے کا گوشت تناول فرمایا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 210]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة