🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

دم کے متعلق احادیث
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1415 ترقیم فقہی: -- 1722
-" إذا وجد أحدكم ألما فليضع يده حيث يجد ألمه، ثم ليقل سبع مرات: أعوذ بعزة الله وقدرته على كل شيء من شر ما أجد".
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی تکلیف محسوس کرے تو اپنا ہاتھ تکلیف والی جگہ پر رکھے اور سات دفعہ یہ دعا پڑھے: «أعوذ بعزة الله وقدرته على كل شيء من شر ما أجد.» میں اللہ تعالیٰ کے غلبے اور ہر چیز پر اس کی قدرت کی پناہ چاہتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جسے میں محسوس کرتا ہوں۔ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1722]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1415

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2060 ترقیم فقہی: -- 1723
-" كان إذا اشتكى رقاه جبريل فقال: بسم الله يبريك من كل داء يشفيك ومن شر حاسد إذا حسد ومن شر كل ذي عين".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو جبریل امین یہ دعا پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دم کرتے: اللہ کے نام کے ساتھ جو آپ کو صحت عطا کرتا ہے، وہ آپ کو ہر بیماری سے، ہر حسد کرنے والے، جب وہ حسد کرے، اور ہر نظر بد کے شر سے شفا دے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1723]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2060

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2775 ترقیم فقہی: -- 1724
-" كان يعوذ بهذه الكلمات:" [اللهم رب الناس] أذهب الباس، واشف وأنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما". فلما ثقل في مرضه الذي مات فيه أخذت بيده فجعلت أمسحه [بها] وأقولها، فنزع يده من يدي، وقال:" اللهم اغفر لي وألحقني بالرفيق الأعلى". قالت: فكان هذا آخر ما سمعت من كلامه صلى الله عليه وسلم".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دم کرتے تھے: اے اللہ! لوگوں کے پروردگار! تکلیف دور فرما دے، شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری ہی شفا، شفا ہے، ایسی شفا دے جو بیماری کو نہ چھوڑے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض الموت میں اضافہ ہو گیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر پھراتی اور یہ کلمات پڑھتی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور یہ دعا کرنے لگ گئے: اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھے رفیق اعلی میں پہنچا دے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ یہ آخری کلمات تھے، جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سنے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1724]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2775

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں