سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
مشرک کو دفن کرنا
ترقیم الباني: 161 ترقیم فقہی: -- 1728
-" إذهب فوار أباك (الخطاب لعلي بن أبي طالب) قال (لا أواريه) ، (إنه مات مشركا) ، (فقال: اذهب فواره) ثم لا تحدثن حتى تأتيني، فذهبت فواريته، وجئته (وعلي أثر التراب والغبار) فأمرني فاغتسلت، ودعا لي (بدعوات ما يسرني أن لي بهن ما على الأرض من شيء) ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا: کہ آپ کا گمراہ چچا (اور میرا باپ ابوطالب) مر گیا ہے، اب اسے کون دفن کر گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم خود جا کر اپنے باپ کو دفن کرو۔“ میں نے کہا: میں تو اسے دفن نہیں کروں گا کیونکہ وہ شرک کی حالت میں مرا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس تم جاؤ اور اسے دفن کر کے کسی کو اس چیز کی خبر دیے بغیر میرے پاس آ جاؤ۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گیا، اپنے باپ کو دفن کیا اور فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پلٹ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم دیا، میں نے غسل کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں ایسی ایسی (بیش قیمت) دعائیں کیں کہ ان کے مقابلے میں مجھے زمین بھر کے خزانے بھی اچھے نہیں لگتے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1728]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 161