سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
ابتدائی طور پر ”علیک السلام“ کہنا کیسا ہے؟
ترقیم الباني: 2846 ترقیم فقہی: -- 1744
-" إن" عليك السلام" تحية الميت، إن" عليك السلام" تحية الميت (ثلاثا) إذا لقي الرجل أخاه المسلم فليقل: السلام عليكم ورحمة الله".
ابوتمیمہ ہجیمی سے روایت ہے کہ ہماری قوم کے ایک آدمی نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا لیکن کامیاب نہ ہو سکا، (بالآخر) میں بیٹھ گیا۔ اچانک لوگوں کی ایک جماعت پر میری نگاہ پڑی، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے لیکن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتا نہیں تھا۔ ایک آدمی ان کے مابین صلح کروا رہا تھا، جب وہ فارغ ہوا تو بعض لوگ اس کے ساتھ چل دیے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ دیکھ کر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں سلام کہا: ” «عليك السلام يا رسول الله، عليك السلام يا رسول الله، عليك السلام يا رسول الله» آپ پر سلامتی ہو، اے اللہ کے رسول . . . (تین دفعہ کہا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک «عليكم السلام» مردوں کا سلام ہے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین دفعہ ارشاد فرمایا) جب کوئی مسلمان اپنے بھائی کو سلام کہے تو «السلام عليكم ورحمة الله» کہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سلام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: «وعليك ورحمة الله، وعليك ورحمة الله، وعليك ورحمة الله» اور تجھ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو . . . (تین دفعہ فرمایا)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1744]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2846