صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ الشَّرِكَةِ فِي الطَّعَامِ وَغَيْرِهِ:
باب: اناج وغیرہ میں شرکت کا بیان۔
حدیث نمبر: Q2501
وَيُذْكَرُ أَنَّ رَجُلًا سَاوَمَ شَيْئًا فَغَمَزَهُ آخَرُ، فَرَأَى عُمَرُ أَنَّ لَهُ شَرِكَةً.
اور منقول ہے کہ ایک شخص نے کوئی چیز چکائی، دوسرے نے اس کو آنکھ سے اشارہ کیا، تب اس نے مول لے لیا، اس سے عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھ لیا کہ وہ شریک ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّرِكَةِ/حدیث: Q2501]
حدیث نمبر: 2501
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ زَيْنَبُ بِنْتُ حُمَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْهُ، فَقَالَ: هُوَ صَغِيرٌ، فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَدَعَا لَهُ. وَعَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ بِهِ جَدُّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ إِلَى السُّوقِ فَيَشْتَرِي الطَّعَامَ، فَيَلْقَاهُ ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَيَقُولَانِ لَهُ: أَشْرِكْنَا، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ، فَيَشْرَكُهُمْ، فَرُبَّمَا أَصَابَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ، فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْمَنْزِلِ".
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا مجھے سعید بن ابی ایوب نے خبر دی، انہیں زہرہ بن معبد نے، انہیں ان کے دادا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا تھا۔ ان کی والدہ زینب بنت حمید رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کو لے کر حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس سے بیعت لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو ابھی بچہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا کی اور زہرہ بن معبد سے روایت ہے کہ ان کے داد عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ انہیں اپنے ساتھ بازار لے جاتے۔ وہاں وہ غلہ خریدتے۔ پھر عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم ان سے ملتے تو وہ کہتے کہ ہمیں بھی اس اناج میں شریک کر لو۔ کیونکہ آپ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعا کی ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن ہشام انہیں بھی شریک کر لیتے اور کبھی پورا ایک اونٹ (مع غلہ) نفع میں پیدا کر لیتے اور اس کو گھر بھیج دیتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّرِكَةِ/حدیث: 2501]
حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی تھی۔ ان کی والدہ ماجدہ حضرت زینب بنت حمید رضی اللہ عنہا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس سے بیعت لیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی یہ چھوٹا ہے۔“ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر دستِ شفقت پھیرا اور ان کے لیے دعا فرمائی۔ زہرہ بن معبد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہما انہیں لے کر بازار جاتے اور غلے کی خریداری کرتے تھے۔ حضرت ابن عمر اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما ان سے ملاقات کرتے تو کہتے کہ ہمیں بھی اس سودے میں شریک کر لیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لیے برکت کی دعا فرمائی ہے۔ وہ ان کو شریک کر لیتے۔ اکثر اوقات پورا پورا اونٹ حصے میں آتا جو غلے سے لدا ہوتا تھا، جسے وہ اپنے گھر بھیج دیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّرِكَةِ/حدیث: 2501]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2502
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ زَيْنَبُ بِنْتُ حُمَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْهُ، فَقَالَ: هُوَ صَغِيرٌ، فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَدَعَا لَهُ. وَعَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ بِهِ جَدُّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ إِلَى السُّوقِ فَيَشْتَرِي الطَّعَامَ، فَيَلْقَاهُ ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَيَقُولَانِ لَهُ: أَشْرِكْنَا، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ، فَيَشْرَكُهُمْ، فَرُبَّمَا أَصَابَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ، فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْمَنْزِلِ".
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا مجھے سعید بن ابی ایوب نے خبر دی، انہیں زہرہ بن معبد نے، انہیں ان کے دادا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا تھا۔ ان کی والدہ زینب بنت حمید رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کو لے کر حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس سے بیعت لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو ابھی بچہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا کی اور زہرہ بن معبد سے روایت ہے کہ ان کے داد عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ انہیں اپنے ساتھ بازار لے جاتے۔ وہاں وہ غلہ خریدتے۔ پھر عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم ان سے ملتے تو وہ کہتے کہ ہمیں بھی اس اناج میں شریک کر لو۔ کیونکہ آپ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعا کی ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن ہشام انہیں بھی شریک کر لیتے اور کبھی پورا ایک اونٹ (مع غلہ) نفع میں پیدا کر لیتے اور اس کو گھر بھیج دیتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّرِكَةِ/حدیث: 2502]
حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی تھی۔ ان کی والدہ ماجدہ حضرت زینب بنت حمید رضی اللہ عنہا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس سے بیعت لیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی یہ چھوٹا ہے۔“ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر دستِ شفقت پھیرا اور ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ زہرہ بن معبد کہتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ انہیں لے کر بازار جاتے اور غلہ خریدا کرتے تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما ان سے ملاقات کرتے تو کہتے کہ ہمیں بھی اس سودے میں شریک کر لیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لیے برکت کی دعا فرمائی ہے۔ وہ ان کو شریک کر لیتے تھے۔ اکثر اوقات پورا پورا اونٹ حصے میں آتا جو غلے سے لدا ہوتا جس کو وہ اپنے گھر بھیج دیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّرِكَةِ/حدیث: 2502]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة