🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. بَابُ الْعَبْدُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ:
باب: غلام اپنے آقا کے مال کا نگہبان ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2558
وَنَسَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَالَ إِلَى السَّيِّدِ.
‏‏‏‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (غلام کے) مال کو اس کے آقا کی طرف منسوب کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: Q2558]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2558
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالْإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالْمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا، وَالْخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ". قَالَ: فَسَمِعْتُ هَؤُلَاءِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَحْسِبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَالرَّجُلُ فِي مَالِ أَبِيهِ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ.
سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر آدمی حاکم ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ امام حاکم ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ مرد اپنے گھر کے معاملات کا افسر ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی افسر ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ خادم اپنے آقا (سید) کے مال کا محافظ ہے اور اس سے اس کے بارے میں سوال ہو گا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ باتیں سنی ہیں اور مجھے خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ مرد اپنے باپ کے مال کا محافظ ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ غرض تم میں سے ہر فرد حاکم ہے اور سب سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 2558]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: تم سب نگران ہو اور ہر ایک سے اس کی نگرانی کے متعلق پوچھا جائے گا۔ بادشاہ نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کی نگرانی کے متعلق سوال ہوگا۔ مرد اپنے گھر کا نگہبان ہے، اس سے اہل خانہ کے متعلق باز پرس کی جائے گی۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے، اس سے اس کی نگرانی کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ خادم اپنے آقا کے مال کا نگران ہے، اس سے اس کی نگرانی کے متعلق پوچھا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے مذکورہ باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: مرد اپنے باپ کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس کی نگرانی کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ بہرحال تم سب نگران ہو اور سب سے ان کی نگرانی کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 2558]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں