🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

والدین کی عظمت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 515 ترقیم فقہی: -- 2450
-" من أدرك والديه أو أحدهما ثم دخل النار من بعد ذلك فأبعده الله وأسحقه".
سیدنا ابی بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے ماں باپ دونوں یا کسی ایک کو پایا اور پھر آگ میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو (‏‏‏‏اپنی رحمت سے) دور کر دے اور اسے ہلاک کر دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2450]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 515

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 914 ترقیم فقہی: -- 2451
-" الوالد أوسط أبواب الجنة".
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”باپ جنت کے دروازوں میں سے بہترین دروازاہ ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2451]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 914

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3223 ترقیم فقہی: -- 2452
- (لا، ولكن برَّ أباك، وأحسن صحبته) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر عبداللہ بن ابی بن سلول کے پاس سے ہوا، وہ ایک جھاڑی کے سائے میں تھا، اس نے کہا: ابن ابی کبشہ (‏‏‏‏ ‏‏‏‏‏‏‏‏یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم پر گرد و غبار اڑایا ہے۔ اس کے بیٹے عبدالله بن عبدالله نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‏‏‏‏کو عزت دی اور آپ پر کتاب نازل کی! اگر آپ کی چاہت ہو تو میں اس کا سر (‏‏‏‏قلم کر کے) آپ کے پاس لے آتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تو اپنے باپ سے نیکی کر اور حسن صحبت سے پیش آ۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2452]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3223

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 913 ترقیم فقہی: -- 2453
-" دخلت الجنة فسمعت فيها قراءة، قلت: من هذا؟ فقالوا: حارثة بن النعمان، كذلكم البر كذلكم البر (وكان أبر الناس بأمه) ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏میں جنت میں داخل ہوا، میں نے وہاں قراءت کی آواز سنی۔ میں نے پوچھا: (‏‏‏‏جس کی آواز آ رہی ہے) یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: حارثہ بن نعمان ہے۔ یہی نیکی اور (‏‏‏‏حسن سلوک) ہے، یہی نیکی اور (‏‏‏‏‏حسن سلوک) ہے، وہ (‏‏‏‏‏‏‏‏‏حارثہ) اپنی ماں کے ساتھ بہت زیادہ حسن سلوک کرنے والا تھا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2453]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 913

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں