🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بَابُ مَنْ أَهْدَى إِلَى صَاحِبِهِ وَتَحَرَّى بَعْضَ نِسَائِهِ دُونَ بَعْضٍ:
باب: اپنے کسی دوست کو خاص اس دن تحفہ بھیجنا جب وہ اپنی ایک خاص بیوی کے پاس ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2580
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمِي". وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: إِنَّ صَوَاحِبِي اجْتَمَعْنَ، فَذَكَرَتْ لَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهَا.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ہشام سے، ان سے ان کے والد نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لوگ تحائف بھیجنے کے لیے میری باری کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا میری سوکنیں (امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہن) جمع تھیں اس وقت انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (بطور شکایت لوگوں کی اس روش کا) ذکر کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2580]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: لوگ اپنے ہدایا بھیجتے وقت میری باری کے دن کا خیال رکھتے تھے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میری سوکنوں نے اکٹھے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (بطور شکایت) ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جواب ہی نہ دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2580]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2581
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ نِسَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ حِزْبَيْنِ، فَحِزْبٌ فِيهِ: عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ، وَصَفِيَّةُ، وَسَوْدَةُ، وَالْحِزْبُ الْآخَرُ: أُمُّ سَلَمَةَ، وَسَائِرُ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ قَدْ عَلِمُوا حُبَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ، فَإِذَا كَانَتْ عِنْدَ أَحَدِهِمْ هَدِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُهْدِيَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَهَا حَتَّى إِذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، بَعَثَ صَاحِبُ الْهَدِيَّةِ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، فَكَلَّمَ حِزْبُ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقُلْنَ لَهَا: كَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ النَّاسَ، فَيَقُولُ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً فَلْيُهْدِهِ إِلَيْهِ حَيْثُ كَانَ مِنْ بُيُوتِ نِسَائِهِ، فَكَلَّمَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ بِمَا قُلْنَ، فَلَمْ يَقُلْ لَهَا شَيْئًا، فَسَأَلْنَهَا، فَقَالَتْ: مَا قَالَ لِي شَيْئًا؟ فَقُلْنَ لَهَا: فَكَلِّمِيهِ، قَالَتْ: فَكَلَّمَتْهُ حِشينَ دَارَ إِلَيْهَا أَيْضًا، فَلَمْ يَقُلْ لَهَا شَيْئًا، فَسَأَلْنَهَا، فَقَالَتْ: مَا قَالَ لِي شَيْئًا؟ فَقُلْنَ لَهَا: كَلِّمِيهِ حَتَّى يُكَلِّمَكِ، فَدَارَ إِلَيْهَا فَكَلَّمَتْهُ، فَقَالَ لَهَا: لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ، فَإِنَّ الْوَحْيَ لَمْ يَأْتِنِي وَأَنَا فِي ثَوْبِ امْرَأَةٍ إِلَّا عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَقَالَتْ: أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ، مِنْ أَذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ ثُمَّ إِنَّهُنَّ دَعَوْنَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَتِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: إِنَّ نِسَاءَكَ يَنْشُدْنَكَ اللَّهَ الْعَدْلَ فِي بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، فَكَلَّمَتْهُ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ، أَلَا تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ، قَالَتْ: بَلَى فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ فَأَخْبَرَتْهُنَّ، فَقُلْنَ: ارْجِعِي إِلَيْهِ، فَأَبَتْ أَنْ تَرْجِعَ، فَأَرْسَلْنَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، فَأَتَتْهُ فَأَغْلَظَتْ، وَقَالَتْ: إِنَّ نِسَاءَكَ يَنْشُدْنَكَ اللَّهَ الْعَدْلَ فِي بِنْتِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ، فَرَفَعَتْ صَوْتَهَا حَتَّى تَنَاوَلَتْ عَائِشَةَ وَهِيَ قَاعِدَةٌ، فَسَبَّتْهَا حَتَّى إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَنْظُرُ إِلَى عَائِشَةَ، هَلْ تَكَلَّمُ؟ قَالَ: فَتَكَلَّمَتْ عَائِشَةُ تَرُدُّ عَلَى زَيْنَبَ حَتَّى أَسْكَتَتْهَا، قَالَتْ: فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَائِشَةَ، وَقَالَ: إِنَّهَا بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ". قَالَ الْبُخَارِيُّ: الْكَلَامُ الْأَخِيرُ قِصَّةُ فَاطِمَةَ، يُذْكَرُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَقَالَ أَبُو مَرْوَانَ: عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ. وَعَنْ هِشَامٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، وَرَجُلٍ مِنَ المَوَالِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَتْ عَائِشَةُ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْ فَاطِمَةُ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید بن ابی اویس نے، ان سے سلیمان نے ہشام بن عروہ سے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج دو گروہ میں تھیں۔ ایک میں عائشہ، حفصہ، صفیہ اور سودہ رضوان اللہ علیہن اور دوسری میں ام سلمہ اور بقیہ تمام ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہن تھیں۔ مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ محبت کا علم تھا اس لیے جب کسی کے پاس کوئی تحفہ ہوتا اور وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تو انتظار کرتا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی باری ہوتی تو تحفہ دینے والے صاحب اپنا تحفہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجتے۔ اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی جماعت کی ازواج مطہرات نے آپس میں مشورہ کیا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے فرما دیں کہ جسے آپ کے یہاں تحفہ بھیجنا ہو وہ جہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں وہیں بھیجا کرے۔ چنانچہ ان ازواج کے مشورہ کے مطابق انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر ان خواتین نے پوچھا تو انہوں نے بتا دیا کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ازواج مطہرات نے کہا کہ پھر ایک مرتبہ کہو۔ انہوں نے بیان کیا پھر جب آپ کی باری آئی تو دوبارہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا کوئی جواب ہی نہیں دیا۔ ازواج نے اس مرتبہ ان سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسئلہ پر بلواؤ تو سہی۔ جب ان کی باری آئی تو انہوں نے پھر کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ فرمایا۔ عائشہ کے بارے میں مجھے تکلیف نہ دو۔ عائشہ کے سوا اپنی بیویوں میں سے کسی کے کپڑے میں بھی مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر انہوں نے عرض کیا، آپ کو ایذا پہنچانے کی وجہ سے میں اللہ کے حضور میں توبہ کرتی ہوں۔ پھر ان ازواج مطہرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ کہلوایا کہ آپ کی ازواج ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے بارے میں اللہ کے لیے آپ سے انصاف چاہتی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میری بیٹی! کیا تم وہ پسند نہیں کرتی جو میں پسند کروں؟ انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں، اس کے بعد وہ واپس آ گئیں اور ازواج کو اطلاع دی۔ انہوں نے ان سے پھر دوبارہ خدمت نبوی میں جانے کے لیے کہا۔ لیکن آپ نے دوبارہ جانے سے انکار کیا تو انہوں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو بھیجا۔ وہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئیں تو انہوں نے سخت گفتگو کی اور کہا کہ آپ کی ازواج ابوقحافہ کی بیٹی کے بارے میں آپ سے اللہ کے لیے انصاف مانگتی ہیں اور ان کی آواز اونچی ہو گئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا وہیں بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے (ان کے منہ پر) انہیں بھی برا بھلا کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھنے لگے کہ وہ کچھ بولتی ہیں یا نہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی بول پڑیں اور زینب رضی اللہ عنہا کی باتوں کا جواب دینے لگیں اور آخر انہیں خاموش کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ یہ ابوبکر کی بیٹی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ آخر کلام فاطمہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے متعلق ہشام بن عروہ نے ایک اور شخص سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے زہری سے روایت کی اور انہوں نے محمد بن عبدالرحمٰن سے اور ابومروان نے بیان کیا کہ ہشام سے اور انہوں نے عروہ سے کہ لوگ تحائف بھیجنے کے لیے عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار کیا کرتے تھے اور ہشام کی ایک روایت قریش کے ایک صاحب اور ایک دوسرے صاحب سے جو غلاموں میں سے تھے، بھی ہے۔ وہ زہری سے نقل کرتے ہیں اور وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے (اندر آنے کی) اجازت چاہی تو میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی خدمت میں موجود تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2581]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے دو گروپ تھے: ایک گروپ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا، حضرت سودہ رضی اللہ عنہا تھیں، جبکہ دوسرے گروپ میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ باقی تمام ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہن اجمعین تھیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (والہانہ) محبت کو جانتے تھے، اس لیے جب کسی کے پاس تحفہ ہوتا اور وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا (تو) اس میں تاخیر کرتا حتیٰ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تشریف فرما ہوتے تو ہدیہ بھیجنے والا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہدیہ بھیجتا۔ یہ صورت حال دیکھ کر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گروپ نے مشورہ کر کے ان سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں کہ وہ لوگوں سے کہیں کہ جس کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفہ بھیجنا ہو تو آپ اپنی جس بیوی کے ہاں مقیم ہوں وہیں تحفہ بھیجا کرے۔ ان کے کہنے کے مطابق حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے گفتگو کی لیکن آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ جب اس گروپ نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی جواب ہی نہیں دیا۔ انہوں نے ان سے کہا: آپ پھر بات کریں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ جب باری کے دن آپ تشریف لائے تو انہوں نے پھر بات چھیڑی لیکن آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ جب امہات المومنین رضوان اللہ علیہن اجمعین نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے بتایا: آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ ازواج مطہرات نے ان سے کہا: تم یہ بات کرتی رہو جب تک آپ جواب نہیں دیتے۔ پھر جب ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی باری آئی تو انہوں نے آپ سے عرض کیا، تب آپ نے فرمایا: تم عائشہ کے بارے میں مجھے اذیت نہ دو کیونکہ میں جب عائشہ کے علاوہ کسی اور بیوی کے کپڑوں میں ہوتا ہوں تو مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو اذیت پہنچانے سے توبہ کرتی ہوں۔ پھر امہات المومنین رضوان اللہ علیہن اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ کی ازواج آپ کو اللہ کی قسم دیتی ہیں کہ آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے متعلق انصاف کریں، چنانچہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بھی جا کر آپ سے بات چیت کی تو آپ نے فرمایا: دختر من! کیا تو اس سے محبت نہیں کرتی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ اس کے بعد وہ واپس آ گئیں اور ازواج مطہرات کو جواب سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا: دوبارہ جاؤ لیکن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دوبارہ جانے سے انکار کر دیا۔ آخر انہوں نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو بھیجا۔ وہ آئیں تو سخت گفتگو کرنے لگیں اور کہا کہ آپ کی ازواج ابن ابوقحافہ کی بیٹی کے بارے میں اللہ کی قسم دے کر انصاف مانگتی ہیں، ان کی آواز بلند ہوئی یہاں تک کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے لے دے شروع کر دی جو وہاں بیٹھی ہوئی تھیں بلکہ انہیں برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھنے لگے کہ وہ کچھ جواب دیتی ہیں یا نہیں؟ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بولیں اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو جواب دیتی رہیں یہاں تک کہ انہیں چپ کرا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا: آخر یہ ابوبکر کی بیٹی ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: آخر کلام، یعنی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا قصہ ہشام بن عروہ نے ایک اور شخص سے بھی بیان کیا ہے، اس نے امام زہری رحمہ اللہ سے، انہوں نے محمد بن عبدالرحمان سے اسے روایت کیا ہے۔ ابو مروان نے ہشام سے، انہوں نے عروہ سے روایت کیا کہ لوگ اپنے تحائف بھیجنے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے منتظر رہتے تھے۔ ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اجازت طلب کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2581]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں