🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا خیال رکھنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3325 ترقیم فقہی: -- 2538
- (كنّا نصلِّي مع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - العِشاء، فإذا سجد وثب الحسن والحسين على ظهره، وإذا رفع رأسَه أخذهما [بيده من خلفه أخذاً رفيقاً] ، فوضعهما وضعاً رفيقاً، فإذا عاد، عادا، فلمّا صلَّى [وضعهما على فخذيه] واحداً ههنا، وواحداً ههنا، قال أبو هريرة رضي الله عنه: فجئته، فقلت: يا رسول الله! ألا أذهب بهما إلى أمهما؟! قال: لا، فبرقت برقة، فقال: الحقا بأمكما. فما زالا يمشيان في ضوئها، حتى دخلا [إلى أمهما] ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء ادا کر رہے تھے، اچانک سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما آپ کی پشت پر چڑھ گئے۔ جب آپ سر مبارک اٹھاتے تو ان کو پیچھے سے نرمی سے پکڑ لیتے اور بڑی ہی شفقت سے ان کو زمین پر رکھ دیتے۔ پھر جب آپ سجدہ کرتے تو وہ پھر چڑھ جاتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیتے تو ا‏‏‏‏ن کو اپنی ران پر بٹھا لیتے، یعنی ایک کو (‏‏‏‏ایک ران پر) اور دوسرے کو (‏‏‏‏دوسری ران پر)۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں ان دونوں کو ان کی ماں کے پاس نہ لے جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اتنے میں جب بجلی چمکنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ۔ پھر وہ بجلی کی روشنی میں چلتے رہے یہاں تک کہ اپنی ماں کے پاس چلے گئے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2538]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3325

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں