صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ الإِشْهَادِ فِي الْهِبَةِ:
باب: ہبہ کے اوپر گواہ کرنا۔
حدیث نمبر: 2587
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ:" أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً، فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِكَ مِثْلَ هَذَا، قَالَ: لَا، قَالَ: فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ، قَالَ: فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ".
ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا حصین سے، وہ عامر سے کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ منبر پر بیان کر رہے تھے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دیا، تو عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا (نعمان کی والدہ) نے کہا کہ جب تک آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہ بنائیں میں راضی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ (حاضر خدمت ہو کر) انہوں نے عرض کیا کہ عمرہ بنت رواحہ سے اپنے بیٹے کو میں نے ایک عطیہ دیا تو انہوں نے کہا کہ پہلے میں آپ کو اس پر گواہ بنا لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اسی جیسا عطیہ تم نے اپنی تمام اولاد کو دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کو قائم رکھو۔ چنانچہ وہ واپس ہوئے اور ہدیہ واپس لے لیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2587]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے برسرِ منبر کہا کہ میرے والد نے مجھے کچھ عطیہ دیا تو میری والدہ حضرت عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہ بناؤ۔ لہٰذا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: میں نے حضرت عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہونے والے اس بیٹے کو کچھ عطیہ دیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! عمرہ کے کہنے کے مطابق آپ کو اس پر گواہ بنانا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”آیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اتنا ہی دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل و انصاف کیا کرو۔“ حضرت نعمان رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ (یہ سن کر) میرے والد لوٹ آئے اور انہوں نے دی ہوئی چیز واپس لے لی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2587]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة