🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. بَابُ إِذَا وَهَبَ هِبَةً أَوْ وَعَدَ ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ أَنْ تَصِلَ إِلَيْهِ:
باب: اگر ہبہ یا ہبہ کا وعدہ کر کے کوئی مر جائے اور وہ چیز موہوب لہ (جس کو ہبہ کی گئی اس) کو نہ پہنچی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2598
وَقَالَ عَبِيدَةُ: إِنْ مَاتَ وَكَانَتْ فُصِلَتِ الْهَدِيَّةُ وَالْمُهْدَى لَهُ حَيٌّ فَهِيَ لِوَرَثَتِهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ فُصِلَتْ فَهِيَ لِوَرَثَةِ الَّذِي أَهْدَى، وَقَالَ الْحَسَنُ: أَيُّهُمَا مَاتَ قَبْلُ فَهِيَ لِوَرَثَةِ الْمُهْدَى لَهُ إِذَا قَبَضَهَا الرَّسُولُ.
اور عبیدہ بن عمر سلمانی نے کہا اگر ہبہ کرنے والا مر جائے اور موہوب پر موہوب لہ کا قبضہ ہو گیا، وہ زندہ ہو پھر مر جائے تو وہ موہوب لہ کے وارثوں کا ہو گا اور اگر موہوب لہ کا قبضہ ہونے سے پیشتر واہب مر جائے تو وہ واہب کے وارثوں کو ملے گا۔ اور امام حسن بصری نے کہا کہ فریقین میں سے خواہ کسی کا بھی پہلے انتقال ہو جائے، ہبہ موہوب لہ کے ورثاء کو ملے گا۔ جب موہوب لہ کا وکیل اس پر قبضہ کر چکا ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: Q2598]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2598
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا ثَلَاثًا، فَلَمْ يَقْدَمْ حَتَّى تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ أَبُو بَكْرٍ مُنَادِيًا، فَنَادَى: مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَدَنِي فَحَثَى لِي ثَلَاثًا".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ فرمایا، اگر بحرین کا مال (جزیہ کا) آیا تو میں تمہیں اتنا اتنا تین لپ مال دوں گا۔ لیکن بحرین سے مال آنے سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات فرما گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک منادی سے یہ اعلان کرنے کے لیے کہا کہ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی وعدہ ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا کوئی قرض ہو تو وہ ہمارے پاس آئے۔ چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں گیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ تو انہوں نے تین لپ بھر کر مجھے دئیے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2598]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر بحرین سے مال آیا تو میں تجھے اتنا اتنا اور اتنا دوں گا۔ لیکن بحرین سے مال آنے سے پہلے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی۔ پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منادی کرائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سے کوئی وعدہ کیا ہو یا آپ پر اس کا کوئی قرض ہو تو وہ ہمارے پاس آئے۔ چنانچہ میں گیا اور بتایا کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ کیا تھا تو انہوں نے مجھے تین لپ بھر کر دیے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2598]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں