صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ إِذَا وَهَبَ هِبَةً فَقَبَضَهَا الآخَرُ، وَلَمْ يَقُلْ قَبِلْتُ:
باب: اگر کوئی ہبہ کرے اور موہوب لہ اس پر قبضہ کر لے لیکن زبان سے قبول نہ کرے۔
حدیث نمبر: 2600
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ، فَقَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: وَقَعْتُ بِأَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: تَجِدُ رَقَبَةً؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِعَرَقٍ، وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ: اذْهَبْ بِهَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ، قَالَ: عَلَى أَحْوَجَ مِنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا، قَالَ: اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ".
ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا زہری سے، وہ حمید بن عبدالرحمٰن سے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ میں تو ہلاک ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”کیا بات ہوئی؟“ عرض کیا کہ رمضان میں میں نے اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”تمہارے پاس کوئی غلام ہے؟“ کہا کہ نہیں۔ پھر دریافت فرمایا ”کیا دو مہینے پے در پے روزے رکھ سکتے ہو؟“ کہا کہ نہیں۔ پھر دریافت فرمایا ”کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا دے سکتے ہو؟“ اس پر بھی جواب تھا کہ نہیں۔ بیان کیا کہ اتنے میں ایک انصاری عرق لائے۔ (عرق کھجور کے پتوں کا بنا ہوا ایک ٹوکرا ہوتا تھا جس میں کھجور رکھی جاتی تھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ”اسے لے جا اور صدقہ کر دے“ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! کیا اپنے سے زیادہ ضرورت مند پر صدقہ کر دوں؟ اور اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ سارے مدینے میں ہم سے زیادہ محتاج اور کوئی گھرانہ نہیں ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر جا، اپنے ہی گھر والوں کو کھلا دے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2600]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میں تو ہلاک ہو گیا۔ آپ نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ اس نے عرض کیا: میں نے رمضان میں بحالت روزہ بیوی سے جنسی تعلق قائم کر لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟“ اس نے کہا: میں یہ بھی نہیں کر سکتا۔ اتنے میں ایک انصاری کھجوروں کا ایک «عَرَقٌ» (عرق) لے کر آیا (عرق بڑے ٹوکرے کو کہتے ہیں)۔ آپ نے فرمایا: ”تم یہ ٹوکرا لے جاؤ اور انہیں صدقہ کر دو۔“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے سے کسی زیادہ غریب پر صدقہ کروں؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول برحق صلی اللہ علیہ وسلم بنا کر بھیجا ہے! مدینہ طیبہ کے دونوں پتھریلے کناروں میں ہم سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اچھا جاؤ، یہ اپنے ہی گھر والوں کو کھلا دو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2600]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة