🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے شرم و حیا کرنے کے تقاضے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2991 ترقیم فقہی: -- 2799
-" سبحان الله! لا من الله استحيوا، ولا من رسول الله استتروا. قاله في فئة عراة".
سلیمان بن زیاد حضرمی نے کہا: مجھے سیدنا عبداللہ بن حارث بن جز زبیدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ اور اس کا ایک ساتھی ایمن سے گزرے، کیا دیکھتے ہیں کہ قریشیوں کے ایک گروہ نے اپنی چادریں اتار دیں اور انہیں بٹ کر برہنہ حالت میں پٹا کھیلنے لگے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم ان کے پاس سے گزرے تو وہ کہنے لگے کہ یہ ایک مذہب کے پیشوا لوگ ہیں، ان کو نظر انداز کر دو۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ منتشر ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں لوٹے اور حجرے میں داخل ہوئے، میں حجرے کے پیچھے کھڑا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجرے میں فرماتے سنا: ”سبحان اللہ! (‏‏‏‏یہ لوگ) نہ اللہ تعالیٰ سے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پردہ کیا۔“ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں، وہ کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! ان کے لیے بخشش طلب کیجئیے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کسی دشواری کی وجہ سے آپ نے ان کے لیے بخشش طلب نہ کی۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2799]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2991

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں