صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. بَابُ الْبَوْلِ عِنْدَ صَاحِبِهِ وَالتَّسَتُّرِ بِالْحَائِطِ:
باب: اپنے (کسی) ساتھی کے قریب پیشاب کرنا اور دیوار کی آڑ لینا۔
حدیث نمبر: 225
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ:" رَأَيْتُنِي أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَمَاشَى، فَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ، فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ فَبَالَ، فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ، فَأَشَارَ إِلَيَّ فَجِئْتُهُ، فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ حَتَّى فَرَغَ".
ہم سے عثمان ابن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابووائل سے، وہ حذیفہ سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جا رہے تھے کہ ایک قوم کی کوڑی پر (جو) ایک دیوار کے پیچھے (تھی) پہنچے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کھڑے ہو گئے جس طرح ہم تم میں سے کوئی (شخص) کھڑا ہوتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور میں ایک طرف ہٹ گیا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشارہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (پردہ کی غرض سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیوں کے قریب کھڑا ہو گیا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب سے فارغ ہو گئے۔ (بوقت ضرورت ایسا بھی کیا جا سکتا ہے۔) [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 225]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں خود کو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ ہم جا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر (گھورے) پر پہنچے جو ایک دیوار کی پشت پر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اس طرح کھڑے ہوئے جس طرح تم میں سے کوئی شخص کھڑا ہوتا ہے، پھر پیشاب کیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ہٹ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے مجھے بلایا، میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب سے فارغ ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 225]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة