صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ إِذَا زَكَّى رَجُلٌ رَجُلاً كَفَاهُ:
باب: جب ایک مرد دوسرے مرد کو اچھا کہے تو یہ کافی ہے۔
حدیث نمبر: Q2662
وَقَالَ أَبُو جَمِيلَةَ: وَجَدْتُ مَنْبُوذًا فَلَمَّا رَآنِي عُمَرُ، قَالَ: عَسَى الْغُوَيْرُ أَبْؤُسًا كَأَنَّهُ يَتَّهِمُنِي، قَالَ عَرِيفِي: إِنَّهُ رَجُلٌ صَالِحٌ، قَالَ: كَذَاكَ اذْهَبْ وَعَلَيْنَا نَفَقَتُهُ.
اور ابوجمیلہ نے کہا کہ میں نے ایک لڑکا راستے میں پڑا ہوا پایا۔ جب مجھے عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو فرمایا، ایسا نہ ہو یہ غار آفت کا غار ہو، گویا انہوں نے مجھ پر برا گمان کیا، لیکن میرے قبیلہ کے سردار نے کہا کہ یہ صالح آدمی ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایسی بات ہے تو پھر اس بچے کو لے جا، اس کا نفقہ ہمارے (بیت المال کے) ذمے رہے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q2662]
حدیث نمبر: 2662
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَثْنَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَيْلَكَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ مِرَارًا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لَا مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلَانًا وَاللَّهُ حَسِيبُهُ، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا أَحْسِبُهُ كَذَا وَكَذَا إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْهُ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دوسرے شخص کی تعریف کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس! تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی۔ تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی۔ کئی مرتبہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا) پھر فرمایا کہ اگر کسی کے لیے اپنے کسی بھائی کی تعریف کرنی ضروری ہو جائے تو یوں کہے کہ میں فلاں شخص کو ایسا سمجھتا ہوں، آگے اللہ خوب جانتا ہے، میں اللہ کے سامنے کسی کو بےعیب نہیں کہہ سکتا۔ میں سمجھتا ہوں وہ ایسا ایسا ہے اگر اس کا حال جانتا ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: 2662]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی دوسرے شخص کی تعریف کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مرتبہ فرمایا: ”تجھ پر افسوس ہے! تم نے تو اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمائی: ”تم میں سے اگر کوئی اپنے بھائی کی ضرور تعریف کرنا چاہتا ہے تو اسے یوں کہنا چاہیے کہ اللہ ہی فلاں شخص کے متعلق صحیح علم رکھتا ہے۔ میں اس کے مقابلے میں کسی کو پاک نہیں ٹھہراتا۔ میں اسے ایسا ایسا گمان کرتا ہوں بشرط یہ کہ وہ اس کی اس خوبی سے واقف ہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: 2662]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة