🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

64. بَابُ غَسْلِ الْمَنِيِّ وَفَرْكِهِ وَغَسْلِ مَا يُصِيبُ مِنَ الْمَرْأَةِ:
باب: منی کا دھونا اور اس کا کھرچنا ضروری ہے، نیز جو چیز عورت سے لگ جائے اس کا دھونا بھی ضروری ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 229
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْجَزَرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَغْسِلُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَإِنَّ بُقَعَ الْمَاءِ فِي ثَوْبِهِ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا مجھے عبداللہ ابن مبارک نے خبر دی، کہا مجھے عمرو بن میمون الجزری نے بتلایا، وہ سلیمان بن یسار سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ آپ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت کو دھوتی تھی۔ پھر (اس کو پہن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور پانی کے دھبے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں ہوتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 229]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت کے اثرات کو دھو ڈالتی تھی اور آپ انہی کپڑوں میں نماز کے لیے باہر تشریف لے جاتے، جبکہ پانی کے دھبے آپ کے کپڑے میں باقی ہوتے (نظر آتے) تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 229]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 230
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَنِيِّ، يُصِيبُ الثَّوْبَ؟ فَقَالَتْ" كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَأَثَرُ الْغَسْلِ فِي ثَوْبِهِ بُقَعُ الْمَاءِ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید نے، کہا ہم سے عمرو نے سلیمان سے روایت کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا (دوسری سند یہ ہے) ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے، کہا ہم سے عمرو بن میمون نے سلیمان بن یسار کے واسطے سے نقل کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس منی کے بارہ میں پوچھا جو کپڑے کو لگ جائے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ میں منی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے دھو ڈالتی تھی پھر آپ نماز کے لیے باہر تشریف لے جاتے اور دھونے کا نشان (یعنی) پانی کے دھبے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں باقی ہوتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 230]
حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: جس کپڑے کو منی لگ جائے تو (کیسے پاک کیا جائے؟) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے منی دھو ڈالتی، پھر آپ نماز کے لیے باہر تشریف لے جاتے اور دھونے کے نشان، یعنی پانی کے دھبے کپڑے پر باقی رہ جاتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 230]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں