🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

سجدہ کرنے والے کو سجدہ کرنے کی حالت میں قتل کرنے کا حکم نبوی؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2495 ترقیم فقہی: -- 3770
-" والذي نفسي بيده، لو قتلتموه لكان أول فتنة وآخرها".
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لیے (‏‏‏‏مسجد کی طرف) جا رہے تھے، راستے میں ایک سجدہ ریز آدمی کے پاس سے گزر ہوا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور واپس لوٹے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ آدمی ابھی تک سجدے میں پڑا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے ہو گئے اور فرمایا: کون ہے جو اس کو قتل کر دے؟ ایک آدمی کھڑا ہوا، آستین چڑھائی، تلوار سونتی اور اسے لہرایا، لیکن کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں ایسے آدمی کو کیسے قتل کروں، جو سجدہ ریز ہے اور گواہی دے رہا ہے کہ اللہ ہی معبود برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: کون اس کو قتل کرے گا؟ وہی آدمی کھڑا ہوا، آستین چڑھائی، تلوار سونتی اور اس کو لہرایا، لیکن اس کے ہاتھ پر کپکپی طاری ہو گئی اور وہ کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! میں ایسے آدمی کو کیسے قتل کروں جو سجدہ ریز ہے اور گواہی دے رہا ہے کہ اللہ ہی معبود برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم اسے قتل کر دیتے تو یہ پہلا اور آخری فتنہ ہوتا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3770]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2495

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں