صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ الشُّرُوطِ فِي الْمُعَامَلَةِ:
باب: معاملات میں شرطیں لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2719
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَتْ الْأَنْصَارُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اقْسِمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا النَّخِيلَ، قَالَ: لَا، فَقَالَ: تَكْفُونَا الْمَئُونَةَ، وَنُشْرِكْكُمْ فِي الثَّمَرَةِ، قَالُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی۔ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار رضوان اللہ علیہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (مؤاخات کے بعد) یہ پیش کش کی کہ ہمارے کھجور کے باغات آپ ہم میں اور ہمارے بھائیوں (مہاجرین) میں تقسیم فرما دیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس پر انصار نے مہاجرین سے کہا کہ آپ لوگ ہمارے باغوں کے کام کر دیا کریں اور ہمارے ساتھ پھل میں شریک ہو جائیں، مہاجرین نے کہا کہ ہم نے سن لیا اور ہم ایسا ہی کریں گے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرُوطِ/حدیث: 2719]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ ہمارے کھجور کے باغات کو ہمارے اور ہمارے (مہاجر) بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ تب انصار نے (مہاجرین سے) کہا: تم ہماری محنت و مشقت کی ذمہ داری اٹھاؤ، ہم تمہیں پیداوار اور پھل میں شریک کر لیتے ہیں، مہاجرین نے کہا: ہم نے سن لیا اور ہم اس پیشکش کو قبول کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرُوطِ/حدیث: 2719]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2720
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا، وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا".
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین یہودیوں کو اس شرط پر دی تھی کہ اس میں کام کریں اور اسے بوئیں تو آدھی پیداوار انہیں دی جایا کرے گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرُوطِ/حدیث: 2720]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو خیبر کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ اس میں محنت اور کاشت کاری کریں، پھر جو کچھ اس سے پیداوار ہو گی ان کو اس کا نصف ملے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرُوطِ/حدیث: 2720]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة