صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ الْمُكَاتَبِ، وَمَا لاَ يَحِلُّ مِنَ الشُّرُوطِ الَّتِي تُخَالِفُ كِتَابَ اللَّهِ:
باب: مکاتب کا بیان اور جو شرطیں ناجائز اور کتاب اللہ کے مخالف ہیں ان کا بیان۔
حدیث نمبر: Q2735
وَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي الْمُكَاتَبِ: شُرُوطُهُمْ بَيْنَهُمْ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ، أَوْ عُمَرُ: كُلُّ شَرْطٍ خَالَفَ كِتَابَ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَيُقَالُ عَنْ كِلَيْهِمَا، عَنْ عُمَرَ، وَابْنِ عُمَرَ.
اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے مکاتب کے بارے میں کہا کہ ان کی (یعنی مکاتب اور اس کے مالک کی) جو شرطیں ہوں وہ معتبر ہوں گی اور ابن عمر یا عمر رضی اللہ عنہ نے (راوی کو شبہ ہے) کہا کہ ہر وہ شرط جو کتاب اللہ کے مخالف ہو وہ باطل ہے خواہ ایسی سو شرطیں بھی لگائی جائیں۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہما دونوں سے یہ قول مروی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرُوطِ/حدیث: Q2735]
حدیث نمبر: 2735
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَتَتْهَا بَرِيرَةُ تَسْأَلُهَا فِي كِتَابَتِهَا، فَقَالَتْ: إِنْ شِئْتِ أَعْطَيْتُ أَهْلَكِ وَيَكُونُ الْوَلَاءُ لِي، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَّرْتُهُ ذَلِكَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْتَاعِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا۔ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ یحییٰ بن سعید انصاری سے ‘ ان سے عمرہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مکاتبت کے سلسلے میں ان سے مدد مانگنے آئیں تو انہوں نے کہا کہ اگر تم چاہو تو تمہارے مالکوں کو (پوری قیمت) دے دوں اور تمہاری ولاء میرے ہو گی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں تو خرید لے اور آزاد کر دے۔ ولاء تو بہرحال اسی کی ہو گی جو آزاد کر دے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کا کوئی پتہ (دلیل، سند) کتاب اللہ میں نہیں ہے ‘ جس نے بھی کوئی ایسی شرط لگائی جس کا پتہ (دلیل، سند) کتاب اللہ میں نہ ہو تو خواہ ایسی سو شرطیں لگا لے ان سے کچھ فائدہ نہ اٹھائے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرُوطِ/حدیث: 2735]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ان کے پاس حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور ان سے بدلِ کتابت کے متعلق تعاون کا سوال کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تو چاہے تو میں تیرے مالکان کو بدلِ کتابت ادا کر دیتی ہوں، لیکن ولاء میرے لیے ہوگی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے خرید کر آزاد کر دو، ولاء تو اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسی شرطیں عائد کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں؟ آگاہ رہو! جس نے کوئی ایسی شرط لگائی جس کی بنیاد کتاب اللہ میں نہیں، وہ (شرط) قابل اعتبار ہی نہیں اگرچہ ایسی سو شرطیں لگائے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرُوطِ/حدیث: 2735]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة