🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. بَابُ حَفْرِ الْخَنْدَقِ:
باب: خندق کھودنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2835
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَعَلَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يحَفْرِوُنَ الْخَنْدَقِ حول المدينة، وينقلون التراب على متونهم، ويقولون: نحن الذين بايعوا محمدا على الإسلام ما بقينا أبدا والنبي صلى الله عليه وسلم يجيبهم، ويقول:" اللهم إنه لا خير إلا خير الآخره فبارك في الأنصار والمهاجره".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (جب تمام عرب کے مدینہ منورہ پر حملہ کا خطرہ ہوا تو) مدینہ کے اردگرد مہاجرین و انصار خندق کھودنے میں مشغول ہو گئے ‘ مٹی اپنی پشت پر لاد لاد کر اٹھاتے اور (یہ رجز) پڑھتے جاتے ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اس وقت تک جہاد کے لیے بیعت کی ہے جب تک ہماری جان میں جان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس رجز کے جواب میں یہ دعا فرماتے اے اللہ! آخرت کی خیر کے سوا اور کوئی خیر نہیں ‘ پس تو انصار اور مہاجرین کو برکت عطا فرما۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2835]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مہاجرین اور انصار نے مدینہ طیبہ کے ارد گرد خندق کھودنا شروع کی تو وہ اپنی کمر پر مٹی اٹھا کر باہر لاتے اور یہ کہتے تھے: «نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا» ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر جہاد کی بیعت کی ہے جب تک ہم خود زندہ ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواب میں فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَةِ فَبَارِكْ فِي الْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ» اے اللہ! آخرت کی بھلائی کے علاوہ کوئی بھلائی نہیں، لہٰذا تو مہاجرین و انصار میں برکت عطا فرما۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2835]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2836
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ، وَيَقُولُ:"لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے ‘ انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (خندق کھودتے ہوئے مٹی) اٹھا رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ (اے اللہ!) اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں ہدایت نصیب نہ ہوتی۔ یعنی تو ہدایت گر نہ ہوتا تو نہ ملتی ہم کو راہ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2836]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم (خندق کے دن) خود مٹی اٹھاتے اور یہ شعر پڑھتے تھے: اے اللہ! اگر تیرا کرم نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2836]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2837
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ يَنْقُلُ التُّرَابَ وَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ وَهُوَ، يَقُولُ:" لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِل السَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ احزاب (خندق) کے موقع پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی (خندق کھودنے کی وجہ سے جو نکلتی تھی) خود ڈھو رہے تھے۔ مٹی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی سفیدی چھپ گئی تھی اور یہ شعر کہہ رہے تھے «لولا أنت ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا‏.‏ فأنزل السكينة علينا وثبت الأقدام إن لاقينا‏.‏ إن الألى قد بغوا علينا إذا أرادوا فتنة أبينا‏.‏» اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور ہم نہ صدقہ دیتے، اور نہ نماز پڑھتے، پس تو ہم پر سکینت نازل فرما، اور جب ہم دشمن سے مقابلہ کریں، تو ہمیں ثابت قدم رکھ، بے شک ان لوگوں نے ہم پر ظلم کیا ہے، جب یہ کوئی فساد کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کی بات میں نہیں آتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2837]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ احزاب کے دن مٹی اٹھاتے دیکھا اور مٹی نے آپ کے پیٹ کا گورا رخ چھپا لیا تھا، اس وقت آپ یہ فرما رہے تھے: «وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا، إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا، إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا» تو ہدایت گر نہ کرتا تو کہاں ملتی نجات، کیسے پڑھتے ہم نمازیں کیسے دیتے ہم زکاۃ، اب اتار ہم پر تسلی اے شہِ عالی صفات، پاؤں جما دے ہمارے دے لڑائی میں ثبات، بے سبب ہم پر یہ کافر ظلم سے چڑھ آئے ہیں، جب وہ بہکائیں ہم سنتے نہیں ان کی بات۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2837]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں