صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ الْغُسْلِ مَرَّةً وَاحِدَةً:
باب: اس بیان میں کہ صرف ایک مرتبہ بدن پر پانی ڈال کر اگر غسل کیا جائے تو کافی ہو گا۔
حدیث نمبر: 257
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَتْ مَيْمُونَةُ:" وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً لِلْغُسْلِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى شِمَالِهِ فَغَسَلَ مَذَاكِيرَهُ، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ، ثُمَّ تَحَوَّلَ مِنْ مَكَانِهِ فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے اعمش کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے، انہوں نے کریب سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے فرمایا کہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دو مرتبہ یا تین مرتبہ دھوئے۔ پھر پانی اپنے بائیں ہاتھ میں لے کر اپنی شرمگاہ کو دھویا۔ پھر زمین پر ہاتھ رگڑا۔ اس کے بعد کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا۔ پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہا لیا اور اپنی جگہ سے ہٹ کر دونوں پاؤں دھوئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 257]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے پانی رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ دو یا تین مرتبہ دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرمگاہ کو دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رگڑا، بعد ازاں کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر چہرہ مبارک اور دونوں ہاتھوں کو دھویا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم پر پانی بہایا، پھر اپنی جگہ سے ہٹ کر دونوں پاؤں دھوئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 257]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة