صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
100. بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمُشْرِكِينَ بِالْهُدَى لِيَتَأَلَّفَهُمْ:
باب: مشرکین کا دل ملانے کے لیے ان کی ہدایت کی دعا کرنا۔
حدیث نمبر: 2937
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَدِمَ طُفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ وَأَصْحَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ دَوْسًا عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا، فَقِيلَ هَلَكَتْ دَوْسٌ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! قبیلہ دوس کے لوگ سرکشی پر اتر آئے ہیں اور اللہ کا کلام سننے سے انکار کرتے ہیں۔ آپ ان پر بددعا کیجئے! بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اب دوس کے لوگ برباد ہو جائیں گے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم اهد دوسا وائت بهم» ”اے اللہ! دوس کے لوگوں کو ہدایت دے اور انہیں (دائرہ اسلام میں) کھینچ لا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2937]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! قبیلہ دوس نے نافرمانی کی اور (قبول اسلام سے) انکار کر دیا ہے، آپ اللہ سے ان کے متعلق بددعا کریں۔ تب کہا گیا کہ قبیلہ دوس تو برباد ہو جائے گا۔ (لیکن) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ» ”اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت نصیب فرما اور انہیں (حق کی جانب) لے آ۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2937]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة